Main Icon

باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5050

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم:"رَأى عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ رَجُلًا يَسْرِقُ فَقَالَ لَهٗ عِيسٰى:سَرَقْتَ؟ قَالَ: كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ. فَقَالَ عِيسٰى: آمَنْتُ بِاللّٰهِ وَكَذَّبْتُ نَفْسِيْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"رأى عيسى بن مريم رجلا يسرق فقال له عيسى:سرقت؟ قال: كلا والذي لا إله إلا هو. فقال عيسى: آمنت بالله وكذبت نفسي ". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا تو اس سے فرمایا تونے چوری کی ۱∞؎وہ بولا ہرگز نہیں اس کی قسم جس کے سواء کوئی معبود نہیں تو حضرت عیسیٰ نے فرمایا میں الله پر ایمان لایا اور میں نےاپنے کو جھٹلایا۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ فرمان یا تو خبر کے لئے ہے یا پوچھنے کے لئے یعنی کیا تونے چوری کی۔
۲
؎یعنی اس قسم کی وجہ سے تجھے سچا سمجھتا ہوں کہ مؤمن بندہ الله کی جھوٹی قسم نہیں کھاسکتا اس کے دل میں الله کے نام کی تعظیم ہوتی ہے اپنے متعلق غلط فہمی کا خیال کرلیتا ہوں کہ میری آنکھوں نے دیکھنے میں غلطی کی،یہ ہے شان نبوت کہ وہ حتی الامکان دوسرے پر اعتماد فرماتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5050