Main Icon

باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5031

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَعِيطٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ خَيْرًا وَيَنْمِي خَيْرًا . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) . وَزَادَ مُسْلِمٌ قَالَتْ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ - تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرَخِّصُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ كَذِبٌ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: الْحَرْبُ وَالْإِصْلَاحُ بَيْنَ النَّاسِ وَحَدِيثُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهٗ وَحَدِيثُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا

وعن أم كلثوم بنت عقبة بن أبي معيط قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ليس الكذاب الذي يصلح بين الناس ويقول خيرا وينمي خيرا . (متفق عليه) . وزاد مسلم قالت: ولم أسمعه - تعني النبي صلى الله عليه وسلم - يرخص في شيء مما يقول الناس كذب إلا في ثلاث: الحرب والإصلاح بين الناس وحديث الرجل امرأته وحديث المرأة زوجها

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام کلثوم بنت عقبہ ابن ابی معیط سے ۱∞؎فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جھوٹا وہ نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کرادے ۲؎بات بھلی کہے اور بھلی بات پہنچائے ۳؎(مسلم،بخاری)مسلم نے یہ زیادتی کی کہ فرماتی ہیں میں نے انہیں یعنی نبی صلی الله علیہ وسلم کو نہیں سنا کہ آپ لوگ جو جھوٹ بولتے ہیں ان میں سے کسی چیز کی اجازت دیتے ہوں سوا تین جھوٹ کے ۴؎جنگ ۵؎لوگوں کے درمیان صلح اور مرد کی اپنی بیوی سے بات اور بیوی کی اپنی خاوند سے بات ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎ام کلثوم صحابیہ ہیں،انہوں نے ہجرت سے پہلے کسی سے نکاح نہیں کیا بعد ہجرت عبدالرحمن ابن عوف سے اور ان کی وفات کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا،ان کا باپ عقبہ ابن ابی معیط مشہور کافر ہے جو حضور صلی الله علیہ وسلم کا سخت تر دشمن تھا۔(اشعہ)ام کلثوم بنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور ہیں جو حضرت عثمان کی زوجہ ہیں اور ام کلثوم بنت علی جو حضرت فاطمہ زہرا کے شکم سے ہیں اور یہ حضرت عمر کے نکاح میں تھیں۔
۲
؎یعنی جن مسلمانوں میں آپس میں لڑائی ہو ان میں جھوٹ بول کر صلح کرادے کہ ہر ایک تک دوسرے کی دل خوش کن بات گھڑ کر سنادے کہ وہ تمہاری بڑی تعریف کرتا تھا تم سے مل جانے کا خواہش مند ہے وغیرہ وغیرہ۔
۳
؎پہلی بات سے مراد دل خوش کن اور دل پسند بات ہے۔بھلی فرما کر اشارۃً بتایا کہ جھوٹ ہے مگر برا نہیں بلکہ اچھا ہے اس پر ثواب ہے۔خیال رہے کہ بعض سچ کفر ہوجاتے ہیں اور بعض جھوٹ ایمان وعرفان کا رکن بن جاتے ہیں بے گناہ کا اپنے آپ کو گنہگار کہنا ہے تو جھوٹ مگر رب کو مقبول ہے پسند ہے،شیطان نے سچ ہی کہا تھا کہ"خَلَقْتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ"مگر اس سچ پر ہی مردود ہوا۔بہرحال یہ حدیث بہت ہی جامع ہے،جھوٹ سے مراد ہے خلاف واقعہ۔
۴
؎یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم نے تین موقعہ پر خلاف واقعہ بات کہہ دینے کی اجازت دی کہ ان کا انجام بہت اچھا ہے۔
۵
؎یعنی جہاد میں اگر مسلمان کمزور ہوں کفار قوی پھر مسلمان کہیں کہ ہم بڑے طاقتور ہیں تم کو فنا کردیں گے ہمارے پاس سامان جنگ بہت ہے جس سے کفار کا حوصلہ پست ہو بالکل جائز ہے کہ یہ اگرچہ ہے تو جھوٹ مگر ہے جنگی تدبیر۔
۶
؎اس طرح کہ زوجین میں سے کوئی دوسرے سے اپنی بہت محبت ظاہرکرے حالانکہ اسے اتنی محبت نہ ہو یا اپنی بیوی سے زیور کا وعدہ کرے مگر بنوا نہ سکے یہ سب اگرچہ ہے جھوٹ مگر ہے جائز کہ اس میں معاشرے کی اصلاح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5031