Main Icon

باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5048

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ العِبَادَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: حسن الظن من حسن العبادة . رواه أحمد وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اچھا گمان ۱∞؎اچھی عبادت سے ہے ۲؎(احمد،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎لوگوں کے متعلق نیک گمان کرنا بدگمانی نہ کرنا یا الله تعالٰی کے متعلق اچھا گمان کرنا اس کی معافی کی امید رکھنا یہ دونوں احتمال درست ہیں۔
۲
؎اس فرمان عالی کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ الله کے ساتھ اچھا گمان اس سے امید وابستہ کرنا بھی عبادت میں سے ایک اچھی عبادت ہے۔دوسرے یہ کہ الله سے امید اچھی عبادت سے حاصل ہوتی ہے جو عبادت کرے گا اسے یہ امید نصیب ہوگی۔تیسرے یہ کہ عبادت کے ذریعہ الله سے اچھی امید رکھو،عبادت سے غافل رہ کر امیدیں باندھنا حماقت ہے جیسے کوئی جو بو کر گندم کاٹنے کی امید کرے۔چوتھے یہ کہ الله کے بندوں یعنی مسلمانوں سے اچھا گمان کرنا ان پر بدگمانی نہ کرنا یہ بھی اچھی عبادات میں سے ایک عبادت ہے اس فرمان کے اور بھی معنی ہوسکتے ہیں مثلًا یہ کہ مسلمانوں پر اچھا گمان اچھی عبادات سے حاصل ہوتا ہے جو عابد ہوگا وہ ہی نیک گمان ہوگا جو خود برا ہوگا دوسروں کو بھی برا ہی سمجھے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5048