Main Icon

باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5033

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيْدَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ الْكَذِبُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: كَذِبُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهٗ لِيُرْضِيَهَا وَالْكَذِبُ فِي الْحَرْبِ وَالْكَذِبُ لِيُصْلِحَ بَيْنَ النَّاسِ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ

عن أسماء بنت يزيد قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يحل الكذب إلا في ثلاث: كذب الرجل امرأته ليرضيها والكذب في الحرب والكذب ليصلح بين الناس ". رواه أحمد والترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تین مقامات کے سواء کہیں جھوٹ جائز نہیں خاوند کا اپنی بیوی سے جھوٹ بولنا تاکہ اسے راضی کرے اور جھوٹ بولنا جنگ میں ۱ ∞ ؎اور جھوٹ بولنا تاکہ لوگوں کے درمیان صلح کرائے ۲؎(احمد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کفار سے جنگ کرتے ہوئے،مسلمان سے تو جنگ کرنا ہی حرام ہے چہ جائیکہ اس سے جھوٹ بولنا۔دوسری حدیث میں ہےالحرب خدعۃجنگ تدبیر اور چال کا نام ہے۔
۲
؎اس طرح کہ مسلمانوں میں مالی جائیدادی وغیرہ جھگڑے دور کردے اگرچہ جھوٹ کے ذریعہ سے کرے یہ جھوٹ درحقیقت جھوٹ نہیں بلکہ اصلاح ہے۔معلوم ہوا کہ مسلمانوں میں صلح کرانا ایسا ضروری ہے کہ اس کے لیے جھوٹ کی اجازت دی گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5033