Main Icon

باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5046

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: " لَمَّا عَرَجَ بِي ربِّي مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمِشُونَ وُجُوْهَهُمْ وَصُدُوْرَهُمْ فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لما عرج بي ربي مررت بقوم لهم أظفار من نحاس يخمشون وجوههم وصدورهم فقلت: من هؤلاء يا جبريل؟ قال: هؤلاء الذين يأكلون لحوم الناس ويقعون في أعراضهم ". رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب مجھے میرے رب نے معراج دی ۱∞؎تو میں اس قوم پرگزرا جن کے تانبے کے ناخن تھے کہ وہ اپنے چہرے اور سینے کھرچ رہے تھے ۲؎تو میں نے پوچھا اے جبریل یہ کون لوگ ہیں عرض کیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے ہیں اور ان کی آبرؤوں میں مشغول ہوتے ہیں ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں معراج سے مراد جسمانی بیداری کی معراج مراد ہے جو نبوت کے گیارہویں سال ستائیسویں رجب سوموار کی رات ہوئی۔منامییعنی خواب کی معراجیں حضور کو قریبًا تیس ہوئی ہیں،نماز کی فرضیت اس جسمانی معراج میں ہوئی۔
۲
؎اس طرح کہ ان پر خارش کا عذاب مسلط کردیا گیا تھا اور ناخن تانبے کے دھاردار اور نوکیلے تھے ان سے سینہ چہرہ کھجلاتے تھے اور زخمی ہوتے تھے۔خدا کی پناہ! یہ عذاب سخت عذاب ہے یہ واقعہ بعد قیامت ہوگا جو حضور صلی الله علیہ وسلم نے آنکھوں سے دیکھا۔
۳
؎یعنی یہ لوگ مسلمانوں کی غیبت کرتے تھے ان کی آبروریزی کرتے تھے،یہ کام عورتیں زیادہ کرتی ہیں انہیں اس سے عبرت لینی چاہیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5046