Main Icon

باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5038

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ وَالصَّلَاةِ؟ قَالَ قُلْنَا: بَلٰى. قَالَ: إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ صَحِيْحٌ

وعن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أخبركم بأفضل من درجة الصيام والصدقة والصلاة؟ قال قلنا: بلى. قال: إصلاح ذات البين وفساد ذات البين هي الحالقة . رواه أبوداود والترمذي وقال: هذا حديث صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو الدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے کہ کیا میں تمہیں روزے صدقہ اور نماز سے بڑھ کر درجہ والی چیز نہ بتاؤں ۱∞؎فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا ہاں فرمایا آپس کے معاملہ کی درستی ۲؎اور آپس کے معاملہ کا بگاڑ وہ ہی مونڈ دینے والی ہے۳؎(ابوداؤد اور ترمذی)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی وہ چیز درجہ میں یا ثواب میں ان مذکورہ عبادات سے بڑھ کر ہو۔خیال رہے یہاں عطف اعلیٰ کا ادنی پر ہے اس لیے نماز کا ذکر بعد میں فرمایا ورنہ نماز روزہ صدقہ سے افضل ہے یا واؤ جمع کے لیے ہے یعنی وہ کام ان تینوں کے مجموعہ سے افضل ہے،یہاں نفلی روزے نفلی صدقہ نفلی نماز مراد ہے نہ کہ فرضی۔(مرقات )۲؎ذاتکے معنی والیذوکا مؤنث،بینبمعنی درمیانی(یعنی آپس)ذات بینکے معنی ہوئے آپس والی چیز معاملات یا محبت والے تعلقات،بعض شارحین نے فرمایا کہذات بینسے مراد ہے آپس کی دشمنی و عداوت اور ترک تعلقات،اصلاحسے مراد ہے ان کو دورکردینا،رب تعالیٰ فرماتاہے:"وَ اَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَیۡنِکُمۡ"وہ آیت اس حدیث کی تائید کرتی ہے۔
۳
؎یعنی مسلمانوں کے آپس کے تعلقات خراب کردینا،ان میں دشمنی ڈال دینا بھلائیوں ثوابوں کو فنا کردینے والی چیز ہے اس کی نحوست سے انسان روزہ نماز کی لذت بلکہ خود روزے نماز وغیرہ دیگر عبادات سے محروم ہوجاتا ہے۔سبحان الله!کیسی پیاری تشبیہ ہے جیسے استرہ سر کے بالوں کو جڑ سے ختم کردیتا ہے ایسے ہی یہ حرکت نیکیوں کو جڑ سے اڑا دیتی ہے۔
مولانا فرماتے ہیں۔شعر
تاتوانی پامن اندر فراق ابغض الاشیاء عندی الطلاق
یہ حدیث مختلف الفاظ مختلف اسنادوں سے مروی ہے۔چنانچہ طبرانی اور بزاز نے روایت کی کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ لوگوں میں صلح کراؤ،اس صلح کرانے میں جو کچھ تم بولو گے اس کے ہر حرف کے عوض غلام آزاد کرنے کا ثواب پاؤ گے اور الله تعالیٰ تمہاری اصلاح فرمائے گا،تمہارے سارے گناہ بخش دے گا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5038