Main Icon

باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5052

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اعْتَذَرَ إِلٰى أَخِيهِ فَلَمْ يَعْذِرْهُ أَوْ لَمْ يَقْبَلْ عُذْرَهٗ كَانَ عَلَيْهِ مثلُ خَطِيئَةِ صَاحِبِ مَكْسٍ . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي«شُعَبِ الإِيمَانِ» وَقَالَ: الْمَكَّاسُ: الْعَشَّارُ

وعن جابر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من اعتذر إلى أخيه فلم يعذره أو لم يقبل عذره كان عليه مثل خطيئة صاحب مكس . رواهما البيهقي في«شعب الإيمان» وقال: المكاس: العشار

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں جو اپنے بھائی سے معذرت کرے ۱∞؎وہ اس کی معذرت نہ مانے ۲؎یا اس کا عذر قبول نہ کرے تو اس پر ٹیکس والے کا سا گناہ ہوگا۳؎ان دونوں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا اور فرمایامکاسٹیکس لینے والا ہے۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جوشخص اپنے مسلمان بھائی کو ناراض کرے پھر عذر خواہی کے لیے اس کے پاس آئے اس سے معافی چاہے یا قصور کا بدلہ کرنا چاہے۔
۲
؎یعنی بغیر عذر اسے معافی نہ دے اس سے دل صاف نہ کرے۔
۳
؎جیسے ٹیکس لگانے والے اور ٹیکس وصول کرنے والے اکثر ظالم ہوتے ہیں انہیں سخت سزا ملے گی ایسے ہی اس شخص کو سخت سزا ملے گی۔
۴
؎ٹیکس مقرر کرنے والا کسی تاجر وغیرہ کا عذر نہیں قبول کرتا بہرحال اپنی مرضی کے مطابق لگادیتا ہے یہ شخص بھی عذر قبول نہیں کرتا اس لیے یہ تشبیہ بالکل درست ہے۔عشاروہ حکام ہیں جو زمین اور کسانوں کی پیداوار پر عشر(دسواں حصہ)لگائے یا وصول کرنے پر مقرر ہوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5052