- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- جنازوں کا بیان
- حدیث نمبر 1629
باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1629
جنازوں کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حُضِرَ الْمُؤْمِنُ أَتَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي رَاضِيَةً مَرْضِيًّا عَنْكِ إِلٰى رَوْحِ اللهِ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ الْمِسْكِ حَتّٰى إِنَّهٗ لَيُنَاوِلُهٗ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتّٰى يَأْتُوا بِهٖ أَبْوَابَ السَّمَاءِ فَيَقُولُونَ: مَا أَطْيَبَ هٰذِهِ الرِّيحَ الَّتِي جَاءَتْكُمْ مِنَ الْأَرْضِ فَيَأْتُونَ بِهٖ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَهُمْ أَشَدُّ فَرَحًا بِهٖ مِنْ أَحَدِكُمْ بِغَائِبِهٖ يَقْدُمُ عَلَيْهِ فَيَسْأَلُونَهٗ: مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ فَيَقُولُونَ: دَعُوهُ فَإِنَّهٗ كَانَ فِي غَمِّ الدُّنْيَا. فَيَقُولُ: قَدْ مَاتَ أَمَا أَتَاكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: قَدْ ذُهِبَ بِهٖ إِلٰى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ. وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا احْتُضِرَ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ بِمِسْحٍ فَيَقُولُونَ: أُخْرِجِيْ سَاخِطَةً مَسْخُوْطًا عَلَيْكِ إِلٰى عَذَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَتَخْرُجُ كَأَتَیْنِ رِيْحٍ جِيْفَةٍ حَتّٰى يَأْتُوْنَ بِهِ الٰی بَابِ الْأَرْضِ فَيَقُولُونَ: مَا أَنْتَنَ هٰذِهِ الرِّيحَ حَتّٰى يَأْتُونَ بِهٖ أَرْوَاحَ الْكُفَّارِ ". رَوَاهُ أَحْمدُ وَالنَّسَائِيّ
و عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إذا حضر المؤمن أتت ملائكة الرحمة بحريرة بيضاء فيقولون: اخرجي راضية مرضيا عنك إلى روح الله وريحان ورب غير غضبان فتخرج كأطيب ريح المسك حتى إنه ليناوله بعضهم بعضا حتى يأتوا به أبواب السماء فيقولون: ما أطيب هذه الريح التي جاءتكم من الأرض فيأتون به أرواح المؤمنين فلهم أشد فرحا به من أحدكم بغائبه يقدم عليه فيسألونه: ماذا فعل فلان ماذا فعل فلان؟ فيقولون: دعوه فإنه كان في غم الدنيا. فيقول: قد مات أما أتاكم؟ فيقولون: قد ذهب به إلى أمه الهاوية. وإن الكافر إذا احتضر أتته ملائكة العذاب بمسح فيقولون: أخرجي ساخطة مسخوطا عليك إلى عذاب الله عز وجل. فتخرج كأتین ريح جيفة حتى يأتون به الی باب الأرض فيقولون: ما أنتن هذه الريح حتى يأتون به أرواح الكفار ". رواه أحمد والنسائي
حدیث ترجمہ
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب مؤمن کو موت آتی ہے تو رحمت کے فرشتے سفید ریشم لےکر آتے ہیں ۱∞؎کہتے ہیں نکل تو راضی،تجھ سے رب راضی الله کی طرف سے راحت،روحانی رزق اور راضی رب کی طرف چل تو وہ بہترین مشک کی خوشبو کی طرح نکلتی ہے۲؎حتی کہ بعض فرشتے بعض کو وہ روح دیتے ہیں اسے آسمان کے دروازوں تک لاتے ہیں ۳؎آسمان والے کہتے ہیں یہ کیا اچھی خوشبو ہے جو زمین سے تمہیں آئی پھر اسےمسلمانوں کی روحوں کے پاس لاتے ہیں مؤمنین اس کی وجہ سے زیادہ خوش ہوتے ہیں جیسےتم میں سےکوئی گمشدہ آدمی کے آجانے سے خوش ہوئے ۴؎اس سے پوچھتے ہیں کہ فلاں کیاکرتا ہے فلاں کیاکرتاہے پھر کہتے ہیں اسے چھوڑو یہ دنیا کے غم میں تھا ۵؎یہ کہتاہے کہ وہ مرگیا کیاتمہارے پاس نہ آیا وہ کہتے ہیں کہ اسے ام ہاویہ میں پہنچادیا گیا ہے ۶؎اور کافر کی موت جب آتی ہے تو اس کے پاس عذاب کے فرشتے ٹاٹ لےکر آتے ہیں ۷؎کہتے ہیں نکل تو رب سے ناراض تجھ پر رب ناراض الله کے عذاب کی طرف چل تو وہ مردار کی سخت بدبو کی طرح نکلتی ہے حتی کہ اسے زمین کے دروازے تک لاتے ہیں۸؎تو وہ کہتے ہیں کہ یہ کیسی سخت بدبوہے یہاں تک کہ اسے کفار کی روحوں میں پہنچا دیتے ہیں ۹؎(احمد،نسائی)
شرح حدیث
۱∞؎روح کو لپیٹنے کے لیے جنت کالباس لاتے ہیں یعنی مؤمن کے جسم کا کفن یہاں کا کپڑا ہوتا ہے اور روح کا کفن جنت کا۔۲؎یعنی اس کے جسم سے نکلتے وقت بہترین مشک کی خوشبومہکتی ہے جسے فرشتے محسوس کرکے خوش ہوتےہیں۔خیال رہے کہ مؤمن کی روح ہر وقت خوشبودار ہے مگر اس خوشبو کے ظہور کا وقت یہ ہے۔اصحمہ نجاشی کی قبر سے بہت روز تک مشک کی تیز خوشبو نکلتی رہی جیسا کہ مشکوٰۃ شریف میں آئے گا،حضرت سلیمان جزولی صاحب دلائل الخیرات کی قبر سےبھی بہت روز تک خوشبو مہکی،حضور انورصلی الله علیہ وسلم کے جسم،لباس،پسینہ کی خوشبوؤں سے کلیاں مہک جاتی تھیں یہ اسی روحانی خوشبو کاظہور تھا۔۳؎یعنی جیسے جسم میت کو قبرستان لے جاتے ہوئے لوگ کندھے بدلتے ہیں ایسے ہی اس روح کو آسمان پر لے جاتے ہوئے فرشتے ہاتھ بدلتے ہیں مگر تھک کرنہیں بلکہ اظہارعزت کے لیے۔۴؎یعنی اس روح کو مسلمان روحوں کے ٹھکانوں پرپہنچاتےہیں۔اعلیٰ علیین،جنت،دروازۂ جنت اورعرش اعظم کے نیچے جہاں کے یہ لائق ہو ورنہ مؤمنین کی روحیں اس کے نزع کے وقت وہاں موجودتھیں۔بعض بزرگوں نے بحالت نزع اپنے فوت شدہ اہل قرابت کے آنے کی خبر دی ہے،یہ پہنچانا ان کے ساتھ رکھنے کے لیے ہوتا ہے اسی لیے انہیں خوشی ہوتی ہے۔۵؎یعنی یہ مؤمن روحیں اسی جانے والی روح کوگھیرکر اپنے زندہ دوستوں کے حالات پوچھتی ہیں،پھر انہیں میں سے بعض روحیں پوچھنے والوں سےکہتی ہیں کہ سوال و جواب ختم کرو اسے آرام کرنے دو یہ ابھی دنیوی تکالیف اورشدت نزع سے چھوٹ کر آیاہے۔خیال رہے کہ روحوں کا یہ سوال اشتیاق کی وجہ سے ہوتا ہے ورنہ مؤمن روحیں اپنے زندوں کے حالات سےخبردار رہتی ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَیَسْتَبْشِرُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ لَمْ یَلْحَقُوۡا بِہِمۡ"۔زیارت قبور کے آخر میںاِنْ شَاءَاللّٰهُآئے گا کہ مؤمن روحیں ہرجمعرات کو اپنے گھر آکر زندوں سے ایصال ثواب کی درخواست کرتی ہیں،نیز زیارت قبورکرنے والوں کو پہچانتی ہیں اورقبرستان گزرنے والے سے دعا کی درخواست کرتی ہیں۔۶؎یعنی انہی روحوں میں سے کوئی کسی کے بارے میں سوال کرتی ہے تو یہ جانے والی روح کہتی ہے کہ وہ تو مرچکا تمہارے پاس پہنچا نہیں تو اسی پوچھنے والی جماعت کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ وہ کافر ہوکر مرا،ہاویہ میں گیاہمارے پاس کیسے آتا۔اس جواب سےبھی معلوم ہورہا ہے کہ یہ روحیں دنیا والوں کے حالات اور ان کے اچھے برے خاتمہ سے خبردار ہیں۔خیال رہے کہ یہاںامّبمعنی اصل اورٹھکانہ ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَاُمُّہٗ ھَاوِیَۃٌ"یعنی وہ اپنے ٹھکانے ہاویہ میں گیا۔۷؎دوزخ کا ٹاٹ لاتے ہیں تاکہ اس میں اس روح کو لپیٹیں یہ اس کا کفن ہے۔۸؎اس عبارت میں سماء پوشیدہ ہے یعنی زمین آسمان کے دروازے پر پہلے آسمان جسے سماء ارض کہا جاتا ہے یا زمین سے مراد اس کا ساتواں طبقہ ہے جس کے نیچےسجین ہے کفار کا ٹھکانہ دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں جس کی تائید اگلے مضمون سے بھی ہورہی ہے۔۹؎سجّین میں جہاں پہلے ہی ارواح کفار قید ہیں مگر یہاں کوئی کسی سے پوچھ گچھ نہیں کرتا ہر ایک اپنے حال میں گرفتار ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1629