Main Icon

باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1625

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهٗ فَقَالَ:”إِنِّي لَا أَرٰى طَلْحَةَ إِلَّا قَدْ حَدَثَ بِهٖ الْمَوْتُ فَآذِنُونِي بِهٖ وَعَجِّلُوا فَإِنَّهٗ لَا يَنْبَغِي لِحِيفَةِ مُسْلِمٍ أَنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَهْلِهٖ” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن حصين بن وحوح أن طلحة بن البراء مرض فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده فقال:”إني لا أرى طلحة إلا قد حدث به الموت فآذنوني به وعجلوا فإنه لا ينبغي لحيفة مسلم أن تحبس بين ظهراني أهله” . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حصین ابن وحوح سے طلحہ بن براء بیمار ہوئے ۱∞؎تو انکے پاس نبی کریم صلی الله علیہ وسلم عیادت کے لئے تشریف لائے پھر فرمایا میرا گمان ہے کہ طلحہ کی وفات آہی گئی ہے مجھے اس کی خبردینا اورجلدی کرنا کیونکہ مسلمان میت کا اپنے گھر والوں میں رکا رہنا مناسب نہیں ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎حصین ابن وحوح صحابی ہیں،انصاری ہیں،آپ سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔۲؎اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ میت کے لیے اعلان عام کرنا بھی جائز ہے اور خاص بزرگ و اہل قرابت کو خبرکرنابھی تاکہ وہ نماز اور دفن میں شرکت کرلیں۔دوسرے یہ کہ حتی الامکان دفن میں جلدی کی جائے،بلاضرورت دیر لگاناجیسا کہ ہمارے پنجاب میں رواج ہے سخت ناجائزہے کہ اس میں میت کے پھولنے پھٹنے اور اسکی بےحرمتی کا اندیشہ ہے، مگر اس حکم سے انبیاءکرام مستثنٰی ہیں۔حضورصلی الله علیہ وسلم کا دفن شریف وفات سے تین دن بعدہوا،مسئلہ خلافت پہلے طے کیا گیا تاکہ زمین خلیفۃ الله سے خالی نہ رہے،بلکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا دفن وفات سے چھ ماہ یا ایک سال بعد ہوا۔(قرآن شریف)خیال رہے کہ یہاںحیفہبمعنی مردہ ہے نہ کہ مردار جیسے قرآن کریم میں ہے"کَیۡفَ یُوٰرِیۡ سَوْءَۃَ اَخِیۡہِ"لہذا اس لفظ سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مردہ نجس ہوتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1625