- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- جنازوں کا بیان
- حدیث نمبر 1627
باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1627
جنازوں کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمَيِّتُ تَحْضُرُهُ المَلَائِكَةُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَالِحًا قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ اخْرُجِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذٰلِكَ حَتّٰى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُفْتَحَ لَهَا فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانٌ فَيُقَالُ: مَرْحَبًا بِالنَّفسِ الطّيبَة ِ كَانَت فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ ادْخُلِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذٰلِكَ حَتّٰى تَنْتَهِيَ إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللهُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السُّوءُ قَالَ: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ اخْرُجِي ذَمِيمَةً وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهٖ أَزْوَاجٌ فَمَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذٰلِكَ حَتّٰى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ فَيُقَالُ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ ارْجِعِي ذَمِيمَةً فَإِنَّهَا لَا تفتح لَهٗ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَتُرْسَلُ مِنَ السَّمَاءِ ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى القَبْر ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الميت تحضره الملائكة فإذا كان الرجل صالحا قالوا: اخرجي أيتها النفس الطيبة كانت في الجسد الطيب اخرجي حميدة وأبشري بروح وريحان ورب غير غضبان فلا تزال يقال لها ذلك حتى تخرج ثم يعرج بها إلى السماء فيفتح لها فيقال: من هذا؟ فيقولون: فلان فيقال: مرحبا بالنفس الطيبة كانت في الجسد الطيب ادخلي حميدة وأبشري بروح وريحان ورب غير غضبان فلا تزال يقال لها ذلك حتى تنتهي إلى السماء التي فيها الله فإذا كان الرجل السوء قال: اخرجي أيتها النفس الخبيثة كانت في الجسد الخبيث اخرجي ذميمة وأبشري بحميم وغساق وآخر من شكله أزواج فما تزال يقال لها ذلك حتى تخرج ثم يعرج بها إلى السماء فيفتح لها فيقال: من هذا؟ فيقال: فلان فيقال: لا مرحبا بالنفس الخبيثة كانت في الجسد الخبيث ارجعي ذميمة فإنها لا تفتح له أبواب السماء فترسل من السماء ثم تصير إلى القبر ". رواه ابن ماجه
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میت کے پاس فرشتے آتے ہیں ۱∞؎اگر آدمی نیک ہوتاہے تو اس سے کہتے ہیں اے پاک روح نکل جو پاک جسم میں تھی ۲؎نکل قابلِ تعریف خیریت،راحت اور پاک رزق اور راضی رب کی بشارت حاصل کر اس سے یہ کہتے رہتے ہیں حتی کہ نکل آتی ہے۳؎پھر اس کو آسمان کی طرف چڑھایاجاتاہے اس کے لیئے آسمان کھولاجاتاہے کہاجاتاہے یہ کون ہے فرشتے کہتے ہیں یہ فلاں ہے تو کہاجاتاہےکہ خوب آئی پاک روح جو پاک جسم میں تھی داخل ہوقابلِ تعریف ہے اور خیریت،راحت،پاک رزق اور راضی رب کی بشارت لے اس سے یہ کہتے رہتے ہیں حتی کہ اس آسمان تک پہنچتی ہے جس میں الله کی تجلی ہے۴؎اور جب آدمی برا ہوتاہے ۵؎تو کہتے ہیں کہ اے خبیث جان نکل جوخبیث جسم میں تھی ۶؎نکل قابلِ ملامت ہوکر اورکھولتے پانی پیپ اور اس کے ہمشکل دوسرے عذابوں کی بشارت لے ۷؎اس سے یہ کہتے رہتے ہیں حتی کہ نکل آتی ہےپھر اسے آسمان کی طرف چڑھایاجاتاہے تو اس کے لیئے آسمان کھلوایاجاتاہے پوچھاجاتا ہے یہ کون ہے کہاجاتاہے فلاں تو کہاجاتاہے اس کے لیئے مرحبا نہیں،خبیث جان ہے جو خبیث جسم میں تھی ملامت کی ہوئی لوٹ جاکیونکہ تیرے لیئے آسمان کے دروازے نہیں کھل سکتے ۸؎پھر اسے آسمان سے پھینکاجاتاہےحتی کہ قبرمیں آجاتی ہے ۹؎(ابن ماجہ)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی ملک الموت اور انکے ساتھی مؤمن کے پاس رحمت کے فرشتے استقبال کے لیے اور کافر کے پاس عذاب کے فرشتے گرفتاری کے لیے ان کے علاوہ ہوتے ہیں۔۲؎نفس اور روح میں فرق اعتباری ہے مظہرشرکو نفس کہتے ہیں"اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ"اورمظہرخیرکو روح"قُلِ الرُّوۡحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیۡ"۔یہاں طیبہ کی صفت سےنفس میں خوبی کےمعنی پیداہوگئے۔(مرقات)ظاہر یہ ہے کہ نفس طیب سے اچھے عقائد کی طرف اورجسم طیب سے اچھے اعمال کی طرف اشارہ ہے یعنی تیرے عقائدبھی اچھے اور اعمال بھی صالح۔۳؎معلوم ہوا کہ مؤمن صالح کی روح کھینچ کرنکالنے کی ضرورت نہیں پڑتی وہ بشارتیں سن کر خودبخود ہی خوش ہوتی نکل آتی ہے۔عیار خنداں رود بجانب یار۴∞؎یعنی ہر آسمان پر اس کا استقبال ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ آسمانی فرشتے ہر انسان کا نام اور اس کے اعمال جانتے ہیں ورنہ انہیں محض نام بتانا بالکل بیکار ہوتا۔آسمان میں الله کے ہونے سے مراد اس کی تجلی،اس کے نور وغیرہ کا ہونا ہے،ورنہ رب تعالٰی آسمان یا زمین میں ہونے سے پاک ہے،مکان جسم یاجسمانیات کے لیے ہوتا ہے۔غالبًا اس آسمان سے عرش اعظم مراد ہے کہ وہ بھی ایک آسمان ہی ہے۔۵؎برے سے مراد کافر ہے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔الله تعالٰی اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کا قاعدہ ہے کہ مؤمن متقی اور کافر کے حالات بیان فرماتے ہیں،مؤمن فاسق کا پردہ رکھتے ہیں کرم نوازی سے۔۶؎یعنی تیرے عقائدبھی برے تھے،اعمال بھی گندے۔خیال رہے کہ اگر کافر اچھے اعمال صدقہ و خیرات بھی کرے جب بھی اس کاجسم گندا ہی ہے،کتا سمندرمیں نہانے سےبھی گندا ہی ہوتاہے،نیز نیک اعمال درستی عقیدہ کےبغیرقبول نہیں۔۷؎اس خبرکو بشارت فرمانا طنز وطعن کے طور پر ہے،رب فرماتاہے:"فَبَشِّرْھُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ"۔خیال رہے کہ کافر کو یہ عذاب بعدقیامت دوزخ میں پہنچ کر ہوں گے،ہاں دوزخ کی گرمی،تپش،دھواں برزخ میں بھی پہنچتا رہے گا۔۸؎یعنی روح لے جانے والے فرشتے آسمانوں کے دروازے کافر کی روح کے لیے کھلواتے ہیں مگر وہاں کے دربان کھولتے نہیں،یہ کھلوانا بھی اسے ذلیل کرنے کو ہے،ورنہ یہ فرشتے جانتے ہیں کہ اس کے لیے دروازہ کھلے گا نہیں۔۹؎یہاں قبر سے مراد مقام سجّین ہے جو ساتویں آسمان کے نیچے ہے جہاں یہ روح قیدکردی جاتی ہے،اس قید کے باوجود اس کاتعلق اپنےجسم کے اجزائے اصلیہ سے رہتاہے،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بعض کفار جلادیئے جاتے ہیں ان کی قبر کہاں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1627