Main Icon

باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1627

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمَيِّتُ تَحْضُرُهُ المَلَائِكَةُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَالِحًا قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ اخْرُجِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذٰلِكَ حَتّٰى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُفْتَحَ لَهَا فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانٌ فَيُقَالُ: مَرْحَبًا بِالنَّفسِ الطّيبَة ِ كَانَت فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ ادْخُلِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذٰلِكَ حَتّٰى تَنْتَهِيَ إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللهُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السُّوءُ قَالَ: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ اخْرُجِي ذَمِيمَةً وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهٖ أَزْوَاجٌ فَمَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذٰلِكَ حَتّٰى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ فَيُقَالُ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ ارْجِعِي ذَمِيمَةً فَإِنَّهَا لَا تفتح لَهٗ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَتُرْسَلُ مِنَ السَّمَاءِ ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى القَبْر ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الميت تحضره الملائكة فإذا كان الرجل صالحا قالوا: اخرجي أيتها النفس الطيبة كانت في الجسد الطيب اخرجي حميدة وأبشري بروح وريحان ورب غير غضبان فلا تزال يقال لها ذلك حتى تخرج ثم يعرج بها إلى السماء فيفتح لها فيقال: من هذا؟ فيقولون: فلان فيقال: مرحبا بالنفس الطيبة كانت في الجسد الطيب ادخلي حميدة وأبشري بروح وريحان ورب غير غضبان فلا تزال يقال لها ذلك حتى تنتهي إلى السماء التي فيها الله فإذا كان الرجل السوء قال: اخرجي أيتها النفس الخبيثة كانت في الجسد الخبيث اخرجي ذميمة وأبشري بحميم وغساق وآخر من شكله أزواج فما تزال يقال لها ذلك حتى تخرج ثم يعرج بها إلى السماء فيفتح لها فيقال: من هذا؟ فيقال: فلان فيقال: لا مرحبا بالنفس الخبيثة كانت في الجسد الخبيث ارجعي ذميمة فإنها لا تفتح له أبواب السماء فترسل من السماء ثم تصير إلى القبر ". رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میت کے پاس فرشتے آتے ہیں ۱∞؎اگر آدمی نیک ہوتاہے تو اس سے کہتے ہیں اے پاک روح نکل جو پاک جسم میں تھی ۲؎نکل قابلِ تعریف خیریت،راحت اور پاک رزق اور راضی رب کی بشارت حاصل کر اس سے یہ کہتے رہتے ہیں حتی کہ نکل آتی ہے۳؎پھر اس کو آسمان کی طرف چڑھایاجاتاہے اس کے لیئے آسمان کھولاجاتاہے کہاجاتاہے یہ کون ہے فرشتے کہتے ہیں یہ فلاں ہے تو کہاجاتاہےکہ خوب آئی پاک روح جو پاک جسم میں تھی داخل ہوقابلِ تعریف ہے اور خیریت،راحت،پاک رزق اور راضی رب کی بشارت لے اس سے یہ کہتے رہتے ہیں حتی کہ اس آسمان تک پہنچتی ہے جس میں الله کی تجلی ہے۴؎اور جب آدمی برا ہوتاہے ۵؎تو کہتے ہیں کہ اے خبیث جان نکل جوخبیث جسم میں تھی ۶؎نکل قابلِ ملامت ہوکر اورکھولتے پانی پیپ اور اس کے ہمشکل دوسرے عذابوں کی بشارت لے ۷؎اس سے یہ کہتے رہتے ہیں حتی کہ نکل آتی ہےپھر اسے آسمان کی طرف چڑھایاجاتاہے تو اس کے لیئے آسمان کھلوایاجاتاہے پوچھاجاتا ہے یہ کون ہے کہاجاتاہے فلاں تو کہاجاتاہے اس کے لیئے مرحبا نہیں،خبیث جان ہے جو خبیث جسم میں تھی ملامت کی ہوئی لوٹ جاکیونکہ تیرے لیئے آسمان کے دروازے نہیں کھل سکتے ۸؎پھر اسے آسمان سے پھینکاجاتاہےحتی کہ قبرمیں آجاتی ہے ۹؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ملک الموت اور انکے ساتھی مؤمن کے پاس رحمت کے فرشتے استقبال کے لیے اور کافر کے پاس عذاب کے فرشتے گرفتاری کے لیے ان کے علاوہ ہوتے ہیں۔۲؎نفس اور روح میں فرق اعتباری ہے مظہرشرکو نفس کہتے ہیں"اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ"اورمظہرخیرکو روح"قُلِ الرُّوۡحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیۡیہاں طیبہ کی صفت سےنفس میں خوبی کےمعنی پیداہوگئے۔(مرقات)ظاہر یہ ہے کہ نفس طیب سے اچھے عقائد کی طرف اورجسم طیب سے اچھے اعمال کی طرف اشارہ ہے یعنی تیرے عقائدبھی اچھے اور اعمال بھی صالح۔۳؎معلوم ہوا کہ مؤمن صالح کی روح کھینچ کرنکالنے کی ضرورت نہیں پڑتی وہ بشارتیں سن کر خودبخود ہی خوش ہوتی نکل آتی ہے۔عیار خنداں رود بجانب یار۴∞؎یعنی ہر آسمان پر اس کا استقبال ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ آسمانی فرشتے ہر انسان کا نام اور اس کے اعمال جانتے ہیں ورنہ انہیں محض نام بتانا بالکل بیکار ہوتا۔آسمان میں الله کے ہونے سے مراد اس کی تجلی،اس کے نور وغیرہ کا ہونا ہے،ورنہ رب تعالٰی آسمان یا زمین میں ہونے سے پاک ہے،مکان جسم یاجسمانیات کے لیے ہوتا ہے۔غالبًا اس آسمان سے عرش اعظم مراد ہے کہ وہ بھی ایک آسمان ہی ہے۔۵؎برے سے مراد کافر ہے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔الله تعالٰی اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کا قاعدہ ہے کہ مؤمن متقی اور کافر کے حالات بیان فرماتے ہیں،مؤمن فاسق کا پردہ رکھتے ہیں کرم نوازی سے۔۶؎یعنی تیرے عقائدبھی برے تھے،اعمال بھی گندے۔خیال رہے کہ اگر کافر اچھے اعمال صدقہ و خیرات بھی کرے جب بھی اس کاجسم گندا ہی ہے،کتا سمندرمیں نہانے سےبھی گندا ہی ہوتاہے،نیز نیک اعمال درستی عقیدہ کےبغیرقبول نہیں۔۷؎اس خبرکو بشارت فرمانا طنز وطعن کے طور پر ہے،رب فرماتاہے:"فَبَشِّرْھُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍخیال رہے کہ کافر کو یہ عذاب بعدقیامت دوزخ میں پہنچ کر ہوں گے،ہاں دوزخ کی گرمی،تپش،دھواں برزخ میں بھی پہنچتا رہے گا۔۸؎یعنی روح لے جانے والے فرشتے آسمانوں کے دروازے کافر کی روح کے لیے کھلواتے ہیں مگر وہاں کے دربان کھولتے نہیں،یہ کھلوانا بھی اسے ذلیل کرنے کو ہے،ورنہ یہ فرشتے جانتے ہیں کہ اس کے لیے دروازہ کھلے گا نہیں۔۹؎یہاں قبر سے مراد مقام سجّین ہے جو ساتویں آسمان کے نیچے ہے جہاں یہ روح قیدکردی جاتی ہے،اس قید کے باوجود اس کاتعلق اپنےجسم کے اجزائے اصلیہ سے رہتاہے،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بعض کفار جلادیئے جاتے ہیں ان کی قبر کہاں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1627