Main Icon

باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1633

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلیٰ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَهُوَ يَمُوتُ فَقُلْتُ: اقْرَأْ عَلیٰ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعن محمد بن المنكدر قال: دخلت علی جابر بن عبد الله وهو يموت فقلت: اقرأ علی رسول الله صلى الله عليه وسلم السلام. رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت محمد ابن منکدر سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت جابر ابن عبد الله کے پاس گیا جب کہ وہ وفات پارہے تھے میں نے کہا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو میرا سلام کہنا ۱∞؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ حضورصلی الله علیہ وسلم تمہاری قبر میں تشریف لائیں گے،تم سے ان کے بارے میں سوال ہوگا اسی موقعہ پر میرا سلام بھی عرض کردینا۔اس سے معلوم ہوا کہ مؤمن حساب و کتاب کے بعدحضورصلی الله علیہ وسلم سے عرض و معروض بھی کر لیتا ہے،عشاق تو اٹھ کر فدا ہوجاتے ہیں۔یہ مطلب بھی ہوسکتاہے کہ تم برزخ میں حضورصلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہو گے مجھے بھی وہاں یادکرلینا۔شعر
ہمیں بھی یاد رکھنا ساکنان کوچہ جاناں
سلام شوق پہنچے بیکساں دشت غربت کا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1633