Main Icon

باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1621

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهٖ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ” رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

عن معاذ بن جبل قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “من كان آخر كلامه لا إله إلا الله دخل الجنة” رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جس کا آخری کلام"لا اِلٰہ الّاالله"ہوگا وہ جنت میں جائے گا ۱∞؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگرچہ عمربھرکلمہ پڑھتا رہا،لیکن مرتے وقت کلمہ ضرور پڑھناچاہیے کہ اس کی برکت سے بخشش ہوگی،مرنے والے کو کلمہ پڑھانا اسی حدیث پرعمل ہے،روایت میں تو یہ بھی آیا ہے کہ کلمہ پڑھ کر سوؤ،یہ حدیثکتاب الایمانکی اس حدیث کی شرح ہے کہ جس نے"لا اِلٰہ الّاالله"کہہ لیا جنتی ہوگیا،اسی معنی پر حدیث میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں،بعض روایات میں ہے کہ جس کا اول کلام"لا اِلٰہ الّاالله"ہو اس کے گناہوں کی معافی ہوگی،لہذا کوشش کرنی چاہیئے کہ بچے کی زبان کلمہ پر کھلے اس سے مراد پورا کلمہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1621