- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 5946
باب:کرامات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5946
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فَقُرَاءَ وَإِنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ عِنْدَهٗ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ، وَإِن كَانَ عِنْدَهٗ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ أَوْ سَادِسٍ» وإنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلَاثَةٍ وَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ تعَشّٰى عِنْد النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَبِثَ حَتّٰى صُلِّيَتِ الْعِشَاءُ ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتّٰى تَعَشَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ بَعْدَ مَا مَضٰى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللهُ. قَالَت لَهٗ امْرَأَتُهٗ: مَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ؟ قَالَ: أَوَمَا عَشَّيْتِيهِمْ؟ قَالَتْ: أَبَوْا حَتّٰى تَجِيءَ فَغَضِبَ وَقَالَ: وَاللّٰهِ لَا أَطْعَمُهٗ أَبَدًا فَحَلَفَتِ الْمَرْأَةُ أَنْ لَا تَطْعَمَهٗ وَحَلَفَ الْأَضْيَافُ أَنْ لَا يَطْعَمُوهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَانَ هٰذَامِنَ الشَّيْطَانِ فَدَعَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلَ وَأَكَلُوا فَجَعَلُوا لَا يَرْفَعُونَ لُقْمَةً إِلَّا رَبَتْ مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرَ مِنْهَا. فَقَالَ لِامْرَأَتِهٖ: يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هٰذَا ؟ قَالَتْ: وَقُرَّةِ عَيْنِي إِنَّهَا الْآنَ لَأَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذٰلِكَ بِثَلَاثِ مِرَارٍ فَأَكَلُوا وَبَعَثَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُكِرَ أَنَّهٗ أَكَلَ مِنْهَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَذُكِرَ حَدِيثُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ: كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ فِي « الْمُعْجِزَاتِ »
وعن عبد الرحمن بن أبي بكر إن أصحاب الصفة كانوا أناسا فقراء وإن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من كان عنده طعام اثنين فليذهب بثالث، وإن كان عنده طعام أربعة فليذهب بخامس أو سادس» وإن أبا بكر جاء بثلاثة وانطلق النبي صلى الله عليه وسلم بعشرة وإن أبا بكر تعشى عند النبي صلى الله عليه وسلم ثم لبث حتى صليت العشاء ثم رجع فلبث حتى تعشى النبي صلى الله عليه وسلم فجاء بعد ما مضى من الليل ما شاء الله. قالت له امرأته: ما حبسك عن أضيافك؟ قال: أوما عشيتيهم؟ قالت: أبوا حتى تجيء فغضب وقال: والله لا أطعمه أبدا فحلفت المرأة أن لا تطعمه وحلف الأضياف أن لا يطعموه. قال أبو بكر: كان هذامن الشيطان فدعا بالطعام فأكل وأكلوا فجعلوا لا يرفعون لقمة إلا ربت من أسفلها أكثر منها. فقال لامرأته: يا أخت بني فراس ما هذا ؟ قالت: وقرة عيني إنها الآن لأكثر منها قبل ذلك بثلاث مرار فأكلوا وبعث بها إلى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر أنه أكل منها. (متفق عليه) وذكر حديث عبد الله بن مسعود: كنا نسمع تسبيح الطعام في « المعجزات »
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن ابوبکر سے ۱؎کہ صفہ والے مسکین لوگ تھے ۲؎اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ تیسرے کو لے جائے اور جس کے پاس چار کا کھانا ہو وہ پانچویں کو یا چھٹے کو لے جاوے۳؎اور حضرت ابوبکر تین شخص لائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس حضرات لائے ۴؎ابوبکر صدیق نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رات کا کھانا کھایا پھر کچھ ٹھہرے حتی کہ عشاء کی نماز پڑھ لی گئی آپ پھر لوٹ گئے پھر کچھ ٹھہرے حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کا کھانا کھالیا ۵؎پھر آپ آئے اس کے بعد رات کا مشیت الٰہی کے بقدر حصہ گزر گیا ان سے ان کی بیوی نے کہا کہ تمہیں تمہارے مہمانوں سے کس چیز نے روکا ۶؎آپ نے کہا کیا تم نے انہیں کھانا نہیں کھلایا وہ بولیں کہ انہوں نے تمہارے آنے تک کھانے سے انکار کیا ۷؎آپ ناراض ہوئے اور بولے خدا کی قسم میں یہ کبھی نہ کھاؤں گا۸؎آپ کی بیوی نے قسم کھالی کہ وہ بھی نہ کھائیں گی اور مہمانوں نے قسم کھالی کہ وہ بھی نہ کھائیں گے ۹؎جناب صدیق نے کہا کہ یہ قسم شیطان کی طرف سے ہوگئی آپ نے کھانا منگایا پھر کھایا پھر ان سب نے کھایا ۱۰؎تووہ لوگ کوئی لقمہ نہ اٹھاتے تھے مگر اس کے نیچے سے اس سے زیادہ بڑھتا تھا ۱۱؎آپ نے اپنی بیوی سے فرمایا کہ اے بنی فراس کی بہن ۱۲؎یہ کیا وہ بولیں میری آنکھ کی ٹھنڈک کی قسم ۱۳؎یہ کھانا پہلے سے تین گنا زیادہ ہے ۱۴؎ان سب نے یہ کھانا کھایا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا گیا کہا گیا ہے کہ حضور نے بھی اس میں سے کھایا ۱۵؎(مسلم،بخاری)اور حضرت عبداللہ ابن مسعود کی حدیث کہ ہم کھانے کی تسبیح سنتے تھےباب المجزاتمیں ذکر کردی گئی ۱۶؎
شرح حدیث
۱∞؎حضرت عبدالرحمن جناب صدیق اکبر کے بڑے بیٹے اور جناب عائشہ صدیقہ کے سگے بھائی ہیں،ان دونوں کی والدہ جناب ام رومان ہیں،آپ کا نام پہلے عبدالکعبہ تھا،حدیبیہ کی سال اسلام لائے حضور انور نے ان کا نام عبدالرحمن رکھا۔(اشعہ و مرقات)
۲؎صفہ کا ترجمہ ہے چبوترہ مسجد نبوی شریف کے متصل ایک چھتا ہوا چبوترہ بنایا گیا تھا جس میں وہ حضرات رہتے تھے جنہوں نے اپنے کو طلب علم اور خدمت دین کے لیے وقف کردیا تھا،یہ حضرات ستر تھے انہیں اصحاب صفہ کہتے تھے۔ان حضرات میں مشہور صحابہ کرام یہ ہیں ابو ذر غفاری،عمار ابن یاسر،سلمان فارسی،صہیب،بلال،ابوہریرہ،خباب ابن ارت،حذیفہ ابن یمان،ابو سعید خدری،بشیر ابن خصاصہ،ابو موہبہ وغیرہم رضی اللہ عنہم،انہیں حضرات کے متعلق یہ آیت کریمہ نازل ہوئی"وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّهُمۡ"الخ۔(مرقات)
۳؎ان حضرات کا کھانا پینا مدینہ والوں کے ذمہ تھا،اب تک یہ ہی دستور چلا آرہا ہے کہ دینی علم کے طلباء مساجد میں رہتے ہیں اور مسلمان محلہ و الے ان کے مصارف برداشت کرتے ہیں اسی طرح دین چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔
۴؎یعنی آج واقعہ یہ ہوا کہ جناب ابوبکر صدیق تین طالب علم لائے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دس طلباء کو مہمان بنایا یہ لانا ہمیشہ کے لیے نہ تھا صرف رات کے لیے تھا۔بعض سخی مسلمان اپنے ہاں طالب علموں کا مستقل کھانا لگادیتے ہیں یہ ان کی ہمت ہے،سب سے بہتر صدقہ جاریہ یہ ہے کہ کسی کو اپنے خرچہ سے عالم بنایا جاوے جیسے امام اعظم نے امام ابویوسف کو اپنے خرچہ پر اپنی تعلیم سے جید عالم بلکہ امام مجتہد بنا دیا جن کا فیض تاقیامت رہے گا۔
۵؎یعنی حضرت ابوبکر صدیق عشاء کی نماز تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر شریف پر رہے،پھر حضور کے ساتھ نماز عشاء پڑھی پھر بعد عشاء حضور کے گھر لوٹ گئے اور بعد نماز عشاء حضور کے ساتھ کھانا کھایا اس میں رات کافی گزر گئی۔ادھر حضرت صدیق اکبر کے مہمان سارے گھر والے آپ کے منتظر رہے کسی نے کھانا نہیں کھایا،ان کاخیال تھا کہ جناب صدیق کے آنے پر سب مل کر کھائیں گے،صاحب خانہ کا انتظار سنت صحابہ ہے جیساکہ معلوم ہوا۔
۶؎یعنی تمہارے دیر سے آنے سے تمہارے مہمانوں کو تکلیف ہوئی وہ اب تک بھوکے ہیں تم بہت دیر سے آئے،ایسی باتیں ہوا ہی کرتی ہیں اس میں بے ادبی یا گستاخی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔
۷؎آپ نے سوال کیا کہ تم نے مہمانوں کو میرے بغیر ہی کیوں کھانا نہیں کھلادیا،انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے کھانا پیش کیا تھا مگر مہمانوں نے کہا کہ ہم جناب صدیق اکبر کے ساتھ ہی کھائیں گے،اس زمانہ میں قاعدہ تھا کہ مہمان میزبان مل کر کھانا کھاتے تھے اب بھی عرب میں یہ ہی دستور ہے۔
۸؎جناب صدیق اکبر کو خیال ہوا کہ ہمارے گھر والوں نے مہمانوں سے یوں ہی رسمًا کھانے کے لیے کہا ہوگا اصرار نہیں کیا ہوگا ورنہ وہ ضرور کھالیتے اس لیے آ پ گھر والوں پر ناراض ہوئے اورکھانا نہ کھانے کی قسم کھالی۔(مرقات)
۹؎بی بی صاحبہ کا نہ کھانے کی قسم کھالینا اس لیے تھا کہ خاوند کے بغیر بیوی کھانا کھالینا معیوب سمجھتی ہیں یعنی اگر آپ بھوکے رہیں گے تو میں بھی بھوکی رہوں گی۔مہمانوں نے خیال کیا کہ ہماری وجہ سے یہ آپس کی شکر رنجی ہوئی تو وہ بولے ہم بھی نہیں کھائیں گے ہم لوگ اس خانہ جنگی کا باعث بنے۔مطلب یہ ہے کہ آپ لوگ پہلے آپس میں صلح کریں پھر ہم کھانا کھائیں گے۔
۱۰؎اہلِ عرب خصوصًا مسلمان مدینہ اپنے مہمانوں کا بڑا احترام کرتے تھے اور کرتے ہیں انکی ہر ضد پوری کرتے ہیں اس لیے آپ نے اپنے مہمانوں کی خاطر اپنی قسم توڑ دی،اب بھی مہمان کی خاطر نفلی روزہ توڑ دینا جائز ہے جب کہ مہمان روزے دار میزبان کے بغیر کھانا نہ کھائے،یوں ہی اگر مہمان روزہ دار ہو اور میزبان کھانے کی ضد کرے تو مہمان نفلی روزہ توڑ سکتا ہے مگر قضا واجب ہوگی۔
۱۱؎یہ ہوئی جناب صدیق اکبر کی کرامت یعنی خود آپ اور آپ کے مہمان بلکہ سب گھر والے جب ایک لقمہ برتن سے اٹھاتے تو اس جگہ پیالہ میں نیچے سے کھانا اور نمودار ہوجاتا جو اٹھائے ہوئے لقمہ سے زیادہ ہوتاسبحان الله!کرامت معجزے کی قسم سے ہے کہ کھانے کی برکت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ بھی ہے حضرت صدیق اکبر کی کرامت بھی ۔
۱۲؎آپ کی بیوی صاحبہ کا نام ام رومان ہے،آپ قبیلہ بنی فراس سے تھیں اس لیے جناب صدیق نے انہیںاخت بنی فراسفرمایا یعنی اس قبیلہ والوں کی بہن۔
۱۳؎قرۃ عینییعنی آنکھوں کی ٹھنڈک سے مراد حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔(اشعہ)
۱۴؎یعنی یہ کھانا کھاچکنے کے بعد پہلے سے تین گنا زیادہ ہوگیا یہ فقط اندازہ ہے۔
۱۵؎سبحان الله!کیسا مبارک کھانا تھا کہ اسے جناب صدیق اکبر ان کے گھر والوں انکے مہمانوں نے بھی کھایا اور آخر میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا وہ کھانا تو مبارک در مبارک ہوگیا۔
۱۶؎یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی مگر ہم نے مناسبت کے لحاظ سےباب المعجزاتمیں بیان کردی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5946