Main Icon

باب:کرامات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5953

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ خَاصَمَتْهُ أَرْوَى بِنْتُ أَوْسٍإِلٰى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَادَّعَتْ أَنَّهٗ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ أَرْضِهَا فَقَالَ سَعِيدٌ أَنَا كُنْتُ آخُذُ مِنْ أَرْضِهَا شَيْئًا بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَّسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَمَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَّسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا طُوِّقَهُ الٰى سَبْعِ أَرَضِينَ فَقَالَ لَهٗ مَرْوَانُ لَا أَسْأَلُكَ بَيِّنَةً بَعْدَ هٰذَافَقَالَ سَعِیدٌ اَللّٰهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَأَعِمْ بَصَرَهَا وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا قَالَ فَمَا مَاتَتْ حَتّٰى ذَهَبَ بَصَرُهَا، وَبَيْنَمَاهِيَ تَمْشِي فِي أَرْضِهَا إِذْ وَقَعَتْ فِي حُفْرَةٍ فَمَاتَتْ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ بِمَعْنَاهُ وَأَنَّهٗ رَآهَا عَمْيَاءَ تَلْتَمِسُ الْجُدُرَ تَقُولُ: أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعِيدٍ وَأَنَّهَا مَرَّتْ عَلَى بِئْرٍ فِي الدَّارِ الَّتِي خَاصَمَتْهُ فِيهَا فَوَقَعَتْ فِيهَا، فَكَانَتْ قَبْرَهَا.

عن عروة بن الزبير أن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل خاصمته أروى بنت أوسإلى مروان بن الحكم وادعت أنه أخذ شيئا من أرضها فقال سعيد أنا كنت آخذ من أرضها شيئا بعد الذي سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال وماذا سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من أخذ شبرا من الأرض ظلما طوقه الى سبع أرضين فقال له مروان لا أسألك بينة بعد هذافقال سعید اللهم إن كانت كاذبة فأعم بصرها واقتلها في أرضها قال فما ماتت حتى ذهب بصرها، وبينماهي تمشي في أرضها إذ وقعت في حفرة فماتت. (متفق عليه) وفي رواية لمسلم عن محمد بن زيد بن عبد الله بن عمر بمعناه وأنه رآها عمياء تلتمس الجدر تقول: أصابتني دعوة سعيد وأنها مرت على بئر في الدار التي خاصمته فيها فوقعت فيها، فكانت قبرها.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عروہ ابن زبیر سے ۱؎کہ سعید ابن زید ابن عمرو ابن نفیل سے ۲؎ارویٰ بنت اوس نے ۳؎مروان ابن حکم کی کچہری میں جھگڑا(مقدمہ)کیا۴؎اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس کی زمین کا ایک حصہ لے لیا ۵؎تو سعید نے کہا کہ کیا میں اس کی زمین کا کچھ حصہ لے سکتا ہوں اس کے بعد کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا ہوں ۶؎مروان نے کہا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو کسی کی ایک بالشت زمین ظلمًا لے لے تو سات زمین تک کی زمین گلے میں طوق ڈالا جائے گا ۷؎ان سے مروان نے کہا کہ اس کے بعد میں تم سے کوئی دلیل نہیں مانگتا ۸؎تو سعید نے کہا الٰہی اگر یہ جھوٹی ہو تو اس کی آنکھیں اندھی کردے اور اسے اس کی زمین میں مار دے ۹؎راوی نے فرمایا کہ وہ نہ مری حتی کہ اس کی آنکھیں جاتی رہیں اور جب کہ وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ وہ ایک گڑھے میں گر گئی مرگئی ۱۰؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں محمد ابن زید ابن عبداللہ ابن عمرو سے ۱۱؎اس کے معنی مروی ہیں کہ انہوں نے اسے اندھا دیکھا جو دیواریں ٹٹولتی تھی کہ مجھے سعید کی دعا لگ گئی ۱۲؎اور وہ اس کنویں پر گزری جو اس کے گھر میں تھا جس کے بارے میں اس نے سعید سے جھگڑا کیا تھا تو وہ اس میں گر گئی وہ ہی اس کی قبر بن گئی۱۳؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ حضرت زبیر ابن عوام کے بیٹے ہیں،تابعی ہیں،آپ کی کنیت ابو عبداللہ ہے،آپ کی والدہ اسماء ہیں یعنی عائشہ صدیقہ کی بہن، عبداللہ ابن زبیر کے بھائی ہیں،آپ ۲۲ھ؁ ∞بائیس میں پیدا ہوئے،قراء مدینہ میں سے تھے۔
۲
؎حضرت سعید عشرہ مبشرہ سے ہیں حضرت عمر کے بہنوئی ہیں،بہت مقبول الدعاء تھے،آپ کی تلاوت سن کر حضرت عمر اولًا غصہ میں آئے پھر مسلمان ہو گئے،آپ سواء بدر کے تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بہن فاطمہ آپ کی بیوی تھیں،آپ کی عمر ستر سال سے زیادہ ہوئی، ۵۱ھ؁ ∞ اکیاون میں وفات پائی،مقام عقیق میں وفات ہوئی، وہاں سے مدینہ منورہ لائے گئے جنت بقیع میں دفن کیے گئے۔(اکمال)
۳
؎غالبًا ارویٰ تابعہ ہیں،آپ کے والد اوس ابن اوس صحابی ہیں،بعض نسخوں میں ارویٰ بنت اویس ہے۔
۴
؎مروان کی کنیت ابو عبدالملک ہے،قرشی اموی ہیں،حضرت عمر ابن عبدالعزیز کا دادا ہے،مروان حضور انور کے زمانہ میں پیدا ہوا مگر حضور کی زیارت نہ کرسکا لہذا تابعی ہیں کیونکہ حضور انور نے اس کے باپ حکم کو طائف کی طرف نکال دیا تھا یہ اس کے ساتھ تھا،دمشق میں فوت ہوا ۶۵ھ؁ ∞میں مرا،اس سے بہت صحابی حتی کہ حضرت عثمان و علی اور عروہ ابن زبیر اور امام زین العابدین نے بھی اس سے احادیث لیں۔(اکمال)یہ امیر معاویہ کی طرف سے مدینہ منورہ کا حاکم تھا۔
۵
؎یعنی میری کچھ زمین حضرت سعید ابن زید نے غصب کرلی ہے مجھے واپس دلوائی جاوے۔
۶
؎یعنی یہ ناممکن ہے کہ میں صحابی رسول ہوکر اور زمین کے غصب کے متعلق سرکار کا فرمان عالی سن کر پھر کسی کی انچ بھر زمین غصب کروں۔
۷
؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ آسمان کی طرح زمین بھی سات ہیں اور وہ سات زمینیں سات ملک نہیں بلکہ اوپر تلے تہ بہ تہ سات طبق ہیں ورنہ سات زمینیں حنسلی بنا کر گلے میں ڈالنے کے کیا معنی،اس کی تائید اس آیت سے ہے"سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ
۲
؎یہاںبینہسے مراد دلیل ہے نہ کہ گواہ کیونکہ حضرت سعید ابن زید مدعیٰ علیہ تھے،آپ پر گواہ لازم نہ تھے قسم ضروری تھی یعنی میں آپ سے قسم بھی نہ لوں گا بغیر قسم آپ کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں ایسا شخص کسی کی زمین غصب نہیں کرسکتا۔
۹
؎حضرت سعید نے یہ زمین ارویٰ بنت اوس کے حوالے کردی اور یہ بددعا ساتھ میں دی کہ خدایا یہ زمین اگر اس کی نہ ہو تو اسے اندھا بھی کردے اور اس زمین میں اسے ہلاک بھی کردے جو میں نے اس کے حوالہ کی ہے۔(مرقات)ارضھاسے مراد ہے اس عورت کی یہ مقبوضہ زمین نہ کہ اس کی مملوکہ زمین۔
۱۰
؎اس زمین میں ایک کنواں تھا اس کنویں میں گر کر مری۔
۱۱
؎محمد ابن عبداللہ تابعی ہیں،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پوتے ہیں،حضرت عمرر ضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی ہے ان سے احادیث لی ہیں۔
۱۲
؎یعنی اس عورت نے آج اقرار کرلیا کہ حضرت سعید سچے تھے میں جھوٹی اور ان کی بددعا سے مجھ پر یہ آفات آئی ہیں۔شیخ سعدی فرماتے ہیں؎تواں بہ حلق فرو بردن استخوان درشت ولے شکم بہ درد چوں بگیرداندر ناف
ظلم کی چیز ایک سخت ہڈی ہے جو نگل لینے کے بعد پیٹ پھاڑ ڈالتی ہے۔
۱۳
؎اس سے بظاہر معلوم ہو رہا ہے کہ اس کی نعش کنویں سے نکالی نہ جاسکی نہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جاسکی نہ کفن دفن ہوسکا یہ ہے اللہ کے مقبول بندے کی بد دعا؎بترس از آہ مظلوماں کہ ہنگام دعا کردن اجابت ازدرحق بہر استقبال می آید
مظلوم کی بددعا قبولیت کے پاس نہیں جاتی بلکہ قبولیت اس کے پاس آتی ہے۔اس حدیث میں حضرت سعید کی کرامت کا ثبوت ہے کہ جو آپ کے منہ سے نکلا وہ ہوبہو پورا ہوا اسی لیے اسے بابِ کرامات میں لائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5953