Main Icon

باب:کرامات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5945

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا حَضَرَ أُحُدٌ دَعَانِي أَبِي مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ مَا أُرَانِي إِلَّا مَقْتُولًا فِي أَوَّلِ مَنْ يُقْتَلُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَا أَتْرُكُ بَعْدِي أَعَزَّ عَلَيَّ مِنْكَ غَيْرَ نَفْسِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ عَلَيَّ دَيْنًا فَاقْضِ وَاسْتَوْصِ بِأَخَوَاتِكَ خَيْرًا فَأَصْبَحْنَا فَكَانَ أَوَّلَ قَتِيلٍ وَدَفَنْتُهٗ مَعَ آخَرَ فِي قَبْرٍ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن جابر قال: لما حضر أحد دعاني أبي من الليل فقال ما أراني إلا مقتولا في أول من يقتل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وإني لا أترك بعدي أعز علي منك غير نفس رسول الله صلى الله عليه وسلم فإن علي دينا فاقض واستوص بأخواتك خيرا فأصبحنا فكان أول قتيل ودفنته مع آخر في قبر. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ جب غزوہ احد ہوا تو رات میں مجھے میرے باپ نے بلایا کہا کہ میں اپنے متعلق خیال کرتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں پہلا شہید میں ہوں گا ۱؎اور میں اپنے نزدیک تم سے زیادہ پیارا کسی کو نہیں چھوڑتا سواء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ۲؎اور مجھ پر قرض ہے تم ادا کردینا ۳؎اور اپنی بہنوں کے لیے بھلائی کی وصیت قبول کرو ۴؎ہم نے سویرا پایا تو پہلے شہید وہ ہی تھے اور میں نے انہیں دوسرے کے ساتھ ایک قبر میں دفن کیا ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ ہے صحابی کا علم غیب کہ اپنی موت نوعیت موت حسن خاتمہ وغیرہ سب کی خبر پہلے سے دے دی۔
۲
؎یعنی مجھے سب سے زیادہ پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،ان کے بعد تم مجھے سب سے زیادہ پیارے ہو جو دل میں ہے وہ ہی آپ کی زبان پر ہے۔آپ کا یہ قول اس حدیث کی تفسیر ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اسے اولاد ماں باپ اور سارے لوگوں سے زیادہ پیارا نہ ہوجاؤں،رب تعالٰی حضور کی ایسی محبت نصیب کرے۔
۳
؎اس ادائے قرض کا واقعہباب المعجزاتمیں گزر چکا۔آپ پر بہت کھجوریں قرض تھیں جو حضور انور نے کھجوروں کے ایک ڈھیر سے ادا کردیں اور اس ڈھیر کی ایک کھجور بھی کم نہ ہوئی۔
۴
؎یعنی تم اکیلے تو میرے بیٹے ہو اور میری آٹھ یا نو بیٹیاں ہیں،تم ہی ان کے اکیلے منتظم ہو تم ان سے اچھا برتاوا کرانا،ترجیح اس کو ہے کہ حضرت جابر کی نو بہنیں تھیں بھائی کوئی نہ تھا۔(اشعہ،مرقات)غالبًا آپ کی والدہ نہ تھیں پہلے ہی فوت ہوچکی تھیں۔والله ورسولہ اعلم!۵؎چونکہ اس موقعہ پر کفن بہت کم تھا اس لیے سرکاری حکم تھا کہ ایک ایک قبر میں چند شہید دفن کیے جاویں۔اسی فرمان کے مطابق حضرت عبداللہ کو ان کے دوست اور ان کے بہنوئی حضرت عمرو ابن جموح کے ساتھ دفن کیا گیا۔خیال رہے کہ حضرت عمرو ابن جموح حضرت عبداللہ کے گہرے دوست بھی تھے اور ان کے بہنوئی بھی۔(مرقات و اشعہ)پھر بعد میں حضرت عبداللہ کو وہاں سے منتقل کرکے جنت البقیع میں دفن کیا گیا،فقیر نے قبر شریف کی زیارت کی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5945