Main Icon

باب: امان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3983

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهٖ: "أَوْفُوْا بِحِلْفِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّهٗ لَا يَزِيدُهٗ -يَعْنِي الإِسْلَامَ- إِلَّا شِدَّةً، وَلَا تُحْدِثُوْا حِلْفًا فِي الإِسْلَامِ". رَوَاهُ . وَذَكَرَ حَدِيثَ عليٍّ: "الْمُسْلِمُوْنَ تَتَكَافَأُ" فِي "كِتَابِ الْقِصَاصِ".

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في خطبته: "أوفوا بحلف الجاهلية، فإنه لا يزيده -يعني الإسلام- إلا شدة، ولا تحدثوا حلفا في الإسلام". رواه . وذكر حديث علي: "المسلمون تتكافأ" في "كتاب القصاص".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر و ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ دور جاہلیت کے معاہدے پورے کردو کیونکہ اسلام ان کی پختگی ہی بڑھاتا ہے ۱؎اسلام میں بنا حلف نہ کرو ۲؎اور حضرت علی کی حدیث"الْمُسْلِمُوْنَ تَتَكَافَا"،"كِتَابُ الْقِصَاصِ"میں ذکر کی گئی۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تم لوگوں نے اسلام سے پہلے جو عہدومیثاق کفار سے کرلیے تھے وہ تمام کے تمام پورے کرو کہ اسلام میں خلافِ عہد کرنا جرم ہے۔
۲
؎اس کی شرح وہ حدیث ہے کہلاحلف فی الاسلاماسلام میں حلف نہیں یعنی کفار کا حلیف بننا جائز نہیں۔حلف میں ایک دوسرے کی مدد کا عہدبھی ہوا تھا اور ایک دوسرے کی میراث کا بھی وعدہ کہ جو معاہد مرے اس کا مال اس کا حلیف لے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3983