Main Icon

باب: امان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3979

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلٰى نَفْسِهٖ فَقَتَلَهٗ، أُعْطِيَ لِوَاءَ الْغَدْرِ يَوْمَ الْقَيَامَةِ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن عمرو بن الحمق قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من أمن رجلا على نفسه فقتله، أعطي لواء الغدر يوم القيامة". رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ب ان حمق سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جو کسی شخص کو اس کی جان پر امان دے دے پھر اسے قتل کردے اسے قیامت کے دن غداری(بد عہدی)کا جھنڈا دیا جائے گا ۲؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ قبیلہ بنی خزاعہ سے ہیں،صحابی ہیں،حجۃ الوداع میں حضور کے ہاتھ پر ایمان لائے،حضور کی وفات کے بعد پہلے کوفہ میں پھر مصر میں مقیم رہے، ۵۱ھ؁ ∞ اکیاون میں موصل میں عجیب و غریب طریقہ سے قتل کیے گئے،ان کے قتل کا عجیب قصہ امام سیوطی نے جمع الجوامع میں اور شیخ عبدالحق نے رسالہ تعمیم البشارہ کے حاشیہ میں لکھا ہے وہاں مطالعہ کرنا چاہیے۔
۲
؎اسے رسوا کرنے کے لیے اور یہ جھنڈا بدعہدی وغداری کی نشانی ہوگا جس سے محشر والے اس کی غداری معلوم کرلیں گے۔ خیال رہے کہ قیامت میں مسلمانوں کے خفیہ عیوب ظاہر نہ کیے جائیں گے علانیہ عیوب کا اعلان ہوگا لہذا یہ حدیث پردہ پوشی کی احادیث کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3979