Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4794

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا يَرِيْهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لأن يمتلئ جوف رجل قيحا يريه خير من أن يمتلئ شعرا (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھرا ہو جو اسے گندہ کردے ۱∞؎اس سے اچھا ہے کہ شعر سے بھرا ہو ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بعض روایات میں بجائےقیحاکے بخشا ہے،یریی کے فتحہ رے کے کسرہ دوسری ی کے سکون سے یہ بنا ہےدریسے،دریپیٹ کا وہ زخم جو پیٹ کو بگاڑے لاعلاج بنادے اس سے مراد ہے بگاڑ دے اسے خراب کردے۔
۲
؎بعض شارحین نے فرمایا کہ اس سے مراد برے اشعار ہیں،بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد کوئی خاص شخص ہے ورنہ اچھے اشعار عام مسلمانوں کے لیے برے نہیں مگر قوی یہ ہے کہ اس سے ہر اچھے برے شعر مراد ہیں۔مطلب یہ ہے کہ اشعار میں بہت مشغولیت کہ ہر وقت ایں ایں کرتا رہے نہ نماز کا خیال ہو نہ کسی اور عبادت کا بہرحال برا ہے خواہ اچھے اشعار ہوں ایسی مشغولیت ہو یا برے اشعار ہیں۔(مرقات)دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ ہر وقت ہی روں روں کرتے رہتے چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے گاتے رہتے ہیں یہ برا ہے،حدیث اپنے عموم پر ہےکسی قید یا تاویل کی ضرورت نہیں بلاوجہ احادیث و قرآن میں تاویلیں یا قیدیں لگانا سخت جرم ہے جیسے مرزائی کرتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4794