Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4802

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَعَلَّمَ صَرْفَ الْكَلَامِ لِيَسْبِيَ بِهٖ قُلُوبَ الرِّجَالِ أَوِ النَّاسِ لَمْ يَقْبَلِ اللّٰهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من تعلم صرف الكلام ليسبي به قلوب الرجال أو الناس لم يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو بات کا ہیر پھیر سیکھے ۱∞؎تاکہ اس سے مردوں یا لوگوں کے دل پھانس لے تو الله تعالیٰ قیامت کے دن اس کے نہ فرائض قبول فرمائے گا نہ نوافل ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎صرفکے چند معنی ہیں: ایک مضمون کو مختلف عبارتوں سے بیان کرنا،اچھی عبارت بولنا،جھوٹی بات سچی کرکے دکھانا یعنی جو عالم لچھے دارگفتگو زناٹے کی تقریریں کرنا اس لیے سیکھے کہ لوگ اس کے جال میں پھنس جائیں لوگ اس کے معتقد ہو جاویں۔
۲
؎صرف وعدل کے بہت معنی ہیں: صرف فرض،عدل نفل،صرف توبہ،عدل فدیہ ،صرف عبادات عدل درستی معاملات یعنی ایسے ریا کار کے اعمال بارگاہِ الٰہی میں قابلِ قبول نہیں۔وجہ ظاہر ہے کہ اس نے علم دین و دنیا کے لیے حاصل کیا الله کی اعلیٰ نعمت کی بے قدری کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4802