Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4800

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللّٰهَ يُبْغِضُ الْبَلِيْغَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهٖ كَمَا يَتَخَلَّلُ الْبَاقِرَةُ بِلِسَانِهَا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن الله يبغض البليغ من الرجال الذي يتخلل بلسانه كما يتخلل الباقرة بلسانها . رواه الترمذي وأبوداود وقال الترمذي : هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله تعالیٰ لوگوں میں اس بلیغ آدمی کو ناپسند کرتا ہے ۱∞؎جو اپنی زبان کو پھیرتا ہے جیسے گائے اپنی زبان کو پھیرا دیتی ہے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎بلیغ یا تو بلاغت سے ہے یا مبالغہ سے اگر بلاغت سے ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ جو کوئی صرف کلام کی خوبیوں میں کوشش کرے سچ جھوٹ کی پرواہ نہ کرے،اگر مبالغہ سے ہے تو مطلب ظاہر ہے کہ وہ شخص لوگوں کی تعریف یا ہجو میں مبالغہ کرے جھوٹی سچی بات کی پرواہ نہ کرے۔
۲
؎یتخللبنا ہےخللسے بمعنی درمیان یا بیچ اس سے ہے خلال وہ تنکا جو دانتوں کے بیچ میں جائے۔یتخللکے معنی ہوئے اپنی زبان کو منہ کے بیچ میں گھمائے یعنی بہت بولے بے احتیاطی سے بولے اس کے ذریعہ روزی کمائے بے احتیاطی سے کھائے جیسے گائے باہر زبان نکال کر گھماکر چارا پکڑتی منہ میں لے جاتی ہے اچھی بری چیز میں فرق نہیں کرتی۔(مرقات،اشعہ)بقر،بقرہ،باقر،باقرہسب کے معنی ہیں بیل، گائے۔بقرکے معنی ہیں چیرنا،چونکہ گائے بیل کے ذریعہ زمین ہل چلا کر چیرتی جاتی ہے اس لیے اسے باقرہ کہتے ہیں یعنی زمین کو چیرنے والے۔بڑے عالم کو باقر العلوم کہتے ہیں گویا اس نے علم کو چیر کر اس پر قبضہ کرلیا ہے اس لیے ایک امام کا نام باقر ہے،اس میں وہ واعظین بھی داخل ہیں جو محض پیشہ ور واعظ ہیں صرف روزی کمانے کے لیے تقریریں کرتے ہیں سوا لوگوں کو خوش کرنے کے اور کوئی غرض نہیں رکھتے۔یہاں مرقات نے بروایت حکم حضرت ابوہریرہ سے مرفوعًا حدیث نقل فرمائی کہ الله تعالیٰ دنیا کے عالم،آخرت کے جاہل کو ناپسند فرماتا ہے وعظ تبلیغ دین کے لیے چاہیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4800