Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4799

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُقُومُ السَّاعَةُ حَتّٰى يَخْرُجَ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا تَأْكُلُ الْبَقَرَةُ بِأَلْسِنَتِهَا رَوَاهُ أَحْمَدُ

وعن سعد بن أبي وقاص قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى يخرج قوم يأكلون بألسنتهم كما تأكل البقرة بألسنتها رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قیامت نہ قائم ہوگی حتی کہ ایسی قوم نکلے گی جو اپنی زبانوں سے اسے کھائیں گے ۱∞؎جیسے گائیں اپنی زبانوں سے کھاتی ہیں ۲؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ان کا ذریعہ معاش یہ ہی ہوگا کہ کسی کی خوشامدانہ جھوٹی تعریف میں قصیدہ کہہ دیا اور انعام حاصل کرلیا،کسی کے دشمن کی برائی میں نظم کہہ ڈالی اور کچھ وصول کرلیا،لوگوں کو فصیح وبلیغ جھوٹے کلام سنائے چندہ کرلیا یعنی صرف زبان سے کمائی کریں گے جیساکہ جاہلیت کے شعراء کا دستور تھا وہ ہی پھر ہوجاوے گا۔ نعت خواں،نعت گو،علماء واعظین اس میں داخل نہیں بشرطیکہ باعمل ہوں حلال و حرام آمدنی میں فرق کریں اسی لیے آگے بیان ہورہا ہے۔
۲
؎گائے میدان میں کھاتے وقت ہری سوکھی گھاس نہیں دیکھتی جو سامنے آجائے اسے کھالیتی ہے حتی کہ کبھی دودھک بوٹی بھی کھا جاتی ہے جس سے بیمار بلکہ ہلاک ہوجاتی ہے یہ ہی اس شخص کا حال ہے جو حلا ل و حرام نہ دیکھے جو ملے کھائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4799