Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4793

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَعَلَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ وَيَنْقُلُونَ التُّرَابَ وَهُمْ يَقُولُونَ:نَحْنُ اَلَّذِيْنَ بَايَعُوْا مُحَمَّداً عَلَى الجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُجِيْبُهُمْ:اَللّٰهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّاعَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال: جعل المهاجرون والأنصار يحفرون الخندق وينقلون التراب وهم يقولون:نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما بقينا أبدا يقول النبي صلى الله عليه وسلم وهو يجيبهم:اللهم لا عيش إلاعيش الآخره فاغفر للأنصار والمهاجرة (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ مہاجرین و انصاری خندق کھودنے لگے اور مٹی ہٹانے لگے اور وہ یہ کہتے جاتے تھے کہ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کرلی جب تک کہ ہم باقی رہیں ہمیشہ کے لیے ۱∞؎اور نبی صلی الله علیہ وسلم انہیں جواب دیتے ہوئے فرماتے تھے الٰہی نہیں ہے عیش مگر آخرت کا ۲؎تو تو انصارومہاجرین کو بخش دے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎سبحان الله!کیا نظارہ ہوگا کہ مؤمنین اپنے ایمان کے ساتھ خندق کھود رہے ہیں اور یہ گیت گاتے جارہے ہیں اور حضور صلی الله علیہ وسلم ان کے جواب میں یہ دعائیں ارشاد فرمارہے ہیں۔
۲
؎اس فرمان عالی میں حضرات صحابہ کو تسکین دینا ہے کہ یہاں کی مشقت پر نہ گھبراؤ اگلی زندگی میں دائمی عیش پاؤ گے۔
۳
؎یعنی ان تمام کو ابھی ابھی بخش دے ان کے سارے گناہوں کی اگلے ہوں یا پچھلے اسی گھڑی بخشش فرمادے۔(مرقات)یہ ہے کرم کریمانہ۔ظاہر یہ ہے کہ انصارومہاجرین سے مراد سارے انصارومہاجرین ہیں اس کام میں شریک ہوئے ہوں یا کسی اور کام میں مصروف ہوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4793