Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4787

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: رَدِفْتُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ: هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: هِيْهِ فَأَنْشَدْتُهٗ بَيْتًا. فَقَالَ: هِيْهِ فَانْشَدْتُّهٗ بَيْتًا فَقَالَ: هِيْهِ ثُمَّ أَنْشَدْتُّهٗ مِائَةَ بَيْتٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عمرو بن الشريد عن أبيه قال: ردفت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فقال: هل معك من شعر أمية بن أبي الصلت شيء؟ قلت: نعم. قال: هيه فأنشدته بيتا. فقال: هيه فانشدته بيتا فقال: هيه ثم أنشدته مائة بيت. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے عمرو ابن شرید سے وہ اپنے والد سے راوی ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ایک دن ردیف بنا ۲؎تو فرمایا کیا تمہیں امیہ ابن ابی الصلت کے کچھ شعر یاد ہیں۳؎میں نے عرض کیا ہاں فرمایا لاؤ میں نے ایک شعر پڑھا فرمایا اورلاؤ ۴؎حتی کہ میں نے آپ کو سو شعر سنائے ۵؎(مسلم)۶؎

شرح حدیث

۱∞؎عمرو ابن شرید کی کنیت ابو الولید ہے،تابعی ہیں،ثقفی ہیں،طائف کے رہنے والے انکے والد شرید صحابی ہیں۔
۲
؎اس طرح کہ ایک گھوڑے اونٹ پر آگے حضور انور سوار تھے حضور کے پیچھے میں تھا،حضور کی پشت انور سے میرا سینہ مس کرتا تھا بطور شکریہ اس نعمت کا ذکر فرماتے ہیں تاکہ اپنا قرب بیان کریں اور یہ بات میں نے حضور سے بہت قریب سے سنی ہے مجھے اس میں تردد شک نہیں۔
۳
؎امیہ ابن الصلت قبیلہ بنی ثقیف کا ایک شاعر تھا جس نے اسلام کا شروع زمانہ اور حضور کی ابتدائی تبلیغ پائی مگر نہ ایمان لایا نہ حضور انورکی خدمت میں حاضر ہوا،اپنے دین تارک الدنیا اور توحیدی تھا،اس کے اشعار توحید والے حضور انور نے سنے فرمایا کہ یہ ایمان کے قریب تھا۔بعض روایات میں ہے کہ اس کے دل میں کفر تھا مگر زبان پر ایمان تھا۔(مرقات)۴؎ہیہاصل میںایہتھا الف ھ سے بدل دیا گیا اس کے معنی ہیں لاؤ یا اور لاؤ،پہلاھیہبمعنی لاؤ ہے بعد کےھیہبمعنی اوربھی لاؤ سناؤ۔
۵
؎یہ اشعار حمد الٰہی ،دنیا کی بے وفائی،آخرت کے ثواب و عذاب کے تھے حضور انور نے پسند فرمائے اور بہت سے اشعار سنے۔ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ اچھے مضمون کے شعر اچھے ہیں جن احادیث میں اشعار کی برائی آئی ہے وہاں برے مضمون کے اشعا ر مراد ہیں۔دوسرے یہ کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم شعر جانتے تھے اس کی بھلائی برائی سے واقف تھے،آیت کریمہ"وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ"میں یا توشعرسے مراد ہے جھوٹا کلام یعنی ناول یاعلمناسے مراد ہے ملکہ شعر گوئی یا لہجہ سے شعر پڑھنا کہ حضور انور اس سے پاک تھے۔تیسرے یہ کہ دوسروں سے شعر پڑھوا کر سنناسنت سے ثابت ہے۔چوتھے یہ کفار وفساق شاعروں کے اچھے شعر سننا جائز ہیں جب کہ مضمون شعر اچھا ہو۔
۶
؎یہاں اشعہ میں ہے کہ امیہ ابن صلت اہلِ کتاب سے حضور صلی الله علیہ وسلم کے صفات سنتا رہتا تھا اور کہتا تھا کہ کاش مجھے ان کی زیارت خدمت نصیب ہو جب حضور انور قریش میں نمودار ہوئے تو جل گیا بولا اگر وہ بنی ثقیف سے ہوتے تو میں ایمان لے آتا اسی حسد میں حضور کی خدمت میں حاضر نہ ہوا،خط میں سب سے پہلےباسمك اللھملکھنے والا یہ ہی شخص تھا اس سے سیکھ کر قریش یہ لکھنے لگے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4787