Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4810

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْغِنَاءُ يُنْبِتُ النِّفَاقَ فِي الْقَلْبِ كَمَا يُنْبِتُ الْمَاءُ الزَّرْعَ . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء الزرع . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ گانا دل میں نفاق ایسا اُگاتا ہے جیسے پانی کھیتی کو ۱∞؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مرد کا گانا خود گانے والے اور سننے والے کے دل میں منافقت پیداکرتا ہے لہذا عورت کا گانا سننا یا عورت و مرد کا مل کر گانا یا باجہ پر گانا اس سے بدتر ہے۔عرب کہتے ہیںالغناء رقیۃ الزنایعنی گانا زنا کا منتر ہے،مراد گانے سے وہ ہی ہے جو اوپر عرض کیا۔خوش الحانی سے نعت شریف حضرت حسان پڑھتے تھے، حضور کی تشریف آوری کے موقعہ پر مدینہ منورہ کی بنی نجار کی بچیوں نے گیت گئے ہیں،شادی عید کے موقع پر بچیوں کو حضور نے اچھے گیت گانے کی اجازت دی،اجنبی عورتوں سے مرد نعت بھی نہ سنیں کہ آواز میں دلکشی ہوتی ہے اسی لیے عورتوں کو اذان دینا،تکبیر کہنا،خوش الحانی سے اجنبیوں کے سامنے تلاوت قرآن کرنا سب ممنوع ہے عورت کی آوازبھی سترہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4810