Main Icon

باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2009

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مَا لَا أُحْصِي يَتَسَوَّكُ وَهُوَ صَائِمٌ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.

وعن عامر بن ربيعة قال: رأيت النبي -صلی اللہ عليه وسلم- ما لا أحصي يتسوك وهو صائم رواه الترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عامر ابن ربیعہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بے شمار دفعہ روزہ کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کی وجہ سے امام ابوحنیفہ و مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ روزے میں ہر وقت ہر قسم کی مسواک بلاکراہت جائز ہے زوال سے پہلے کرے یا بعد،تر مسواک کرے یا خشک،بہرحال بلاکراہت درست ہے۔خیال رہے کہ یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ روزے دار کی منہ کی بو اللہ تعالٰی کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پیاری ہےکیونکہ وہاں لفظخلوفہے نہ کہ لفظبخر۔خلوفمنہ کی وہ بو ہے جو معدہ خالی ہونے کی وجہ سے منہ میں پیدا ہوجاتی ہے وہ مسواک سے نہیں جاتی جیساکہ بار ہا کا مشاہدہ ہے۔رہا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا طور والا واقعہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خصوصیات سے ہے کہ آپ نے روزہ میں مسواک کرلی،پھر توریت لینے بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوئے تو ارشاد ہوا اے موسیٰ دس روزے اور رکھو تاکہ پھر وہ ہی مہک پیدا ہو جو مسواک سے جاتی رہی ہے ورنہ مسواک سے روزے کی قضا اور پھر دس روزے رکھنے کا حکم کسی امام کے ہاں نہیں،امام شافعی کے ہاں زوال کے بعد روزے میں مسواک مکروہ ہے اور امام احمد کے ہاں آخری دن میں مکروہ مگر مذہب حنفی بہت قوی ہے۔چنانچہ دارقطنی میں حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزے دار کا بہترین مشغلہ مسواک ہے۔طبرانی میں حضرت عبدالرحمن ابن غنم سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت معاذ ابن جبل سے پوچھا کیا میں روزے میں مسواک کرسکتا ہوں فرمایا ہاں پوچھا دن کے کس حصہ میں فرمایا ہر حصہ میں۔خیال رہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو رب تعالٰی کو ایسی ہی پیاری ہے جیسے غازی کے قدم کی گردوغبار،اگر غازی اپنے قدموں پر ویسے ہی خاک ڈال لے تو ثواب ملتا نہیں اور اگر وہ قدموں کی دھول جھاڑ دے تو ثواب گھٹتا نہیں،ایسے ہی اگر وہ روزہ دار بہ تکلف منہ میں بو پیدا کرلے تو ثواب ملتا نہیں اور اگر مسواک کرے تو ثواب گھٹتا نہیں اسی لیے بیہقی،ابن حبان،طبرانی وغیرہ میں عام صحابہ کا یہ عمل بیان ہوا کہ وہ حضرات روزے میں ہر وقت مسواک کرلیتے تھے۔ اس کی پوری تحقیق یہاں مرقاۃ میں دیکھو۔
۲
؎اس حدیث کو ترمذی نے حسن فرمایا اور احمد و ابن خزیمہ نےبھی روایت کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2009