Main Icon

باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2018

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: إِنْ مَضْمَضَ ثُمَّ أَفْرَغَ مَا فِي فِيهِ مِنَ الْمَاءِ لَا يَضِيرُهُ أَنْ يَزْدَرِدَ رِيقَهُ وَمَا بَقِيَ فِي فِيهِ،وَلَا يَمْضَغُ الْعِلْكَ، فَإِنِ ازْدَرَدَ رِيقَ الْعِلْكِ لَا أَقُولُ: إِنَّهُ يُفْطِرُ، وَلَكِنْ يُنْهَى عَنْهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ بَابٍ.

وعن عطاء قال: إن مضمض ثم أفرغ ما في فيه من الماء لا يضيره أن يزدرد ريقه وما بقي في فيه،ولا يمضغ العلك، فإن ازدرد ريق العلك لا أقول: إنه يفطر، ولكن ينهى عنه. رواه البخاري في ترجمة باب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عطاء سے فرماتے ہیں اگر کلی کرے پھر منہ میں کا پانی اگل دے تو اسے تھوک کا اور جو پانی کا اثر اس کے منہ میں رہ گیا ہے اسے نگل جانا مضر نہیں ۱؎اور علک(مصطگی)نہ چبائے ۲؎اگر علک والا تھوک نگل گیا تو میں یہ نہیں کہتا کہ روزہ ٹوٹ جائے گا لیکن اس سے منع کرنا چاہیے۳؎(بخاری)ترجمہ باب

شرح حدیث

۱∞؎یعنی روزہ دار کو کلی کرکے تھوک نگلنا جائز ہے اگرچہ اس میں پانی کی ٹھنڈک اور اس کا اثر رہ گیا ہوکیونکہ اس قدر اثر سے بچنا ناممکن ہے۔اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جس چیز سے روزہ دار نہ بچ سکے اس سے روزہ نہیں جاتا لہذا اگر گرد و غبار،دھواں،مکھی، مچھر اور آٹے کی مشین کا اڑتا ہوا آٹا،کلی کے پانی کی تری روزہ دار کے حلق میں چلی جائے تو اس سے روزہ نہیں جائے گا۔
۲
؎علكعرب کا مشہور گوند ہے جسے دانتوں کی صفائی اور مضبوطی کے لیے چبایا جاتا ہے مصطگی کی طرح دانہ دانہ ہوتا ہے۔
۳
؎خلاصہ یہ ہے کہ روزہ میں گوند مصطگی وغیرہ چباکر تھوک دینا مکروہ ہے کیونکہ اندیشہ ہے کہ گوند کے کچھ اجزاء حلق میں اتر جائیں گویا اس میں روزہ کو قریب الافطار کردینا ہے۔جوشخص یہ چباکر اچھی طرح تھوک دے پھر تھوگ نگلے تو اگرچہ گوند کے کچھ نامعلوم ذرے حلق میں اتر جائیں روزہ نہ جائے گا۔
مسئلہ:درزی نے رنگین دھاگہ دانت سے توڑا جس سے اس کا تھوک رنگین ہوگیا تو اگر دھاگہ کی طرح تیز رنگین ہوگیا اس کا نگلنا روزہ توڑ دیگا اور اگر خفیف رنگین ہوگیا تو نہیں۔
مسئلہ:عورتوں کے لیے مسواک مکروہ ہے کہ ان کے مسوڑھے کمزور ہوتے ہیں،ان کے لیے علک،سکڑا،انگلی موٹا کپڑا مسواک کے قائم مقام ہے۔
مسئلہ:مردوں کے لیے مسی اور سکڑا ملنا مکروہ ہے کہ اس میں عورتوں سے مشابہت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2018