Main Icon

باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2016

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: كُنْتُمْ تَكْرَهُونَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِم عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-؟ قَالَ: لَا إِلَّا مِنْ أَجْلِ الضَّعْفِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن ثابت البناني قال: سئل أنس بن مالك: كنتم تكرهون الحجامة للصائم على عهد رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-؟ قال: لا إلا من أجل الضعف. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثابت بنانی سے ۱؎فرماتے ہیں حضرت انس بن مالک سے پوچھا گیا کہ کیا آپ لوگ رسولصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں روزہ دار کے لیے فصد ناپسند کرتے تھی ۲؎فرمایا نہیں مگر ضعف کی وجہ سے ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ ثابت ابن اسلم مشہور تابعی ہیں،بصرہ کے علماء اعلام میں سے تھے،حضرت انس کے ساتھ چالیس سال رہے۔
۲
؎صحابہ کرام سے فصد کے متعلق یہ سوالات اس حدیث کی وجہ سے ہوتے تھے جو لوگوں میں مشہور ہوچکی تھی"اَفْطَرَالْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ"اس کا مطلب ہم پہلے عرض کرچکے ہیں۔
۳
؎یعنی چونکہ فصد لینے سے خون نکل جانے کے باعث آدمی کمزور پڑجاتا ہے ممکن ہے کہ روزہ پورا نہ کر سکے یا بہت تکلیف اٹھائے اس لیے روزے میں فصد بہتر نہ جانتے تھے اس حدیث نے گزشتہ حدیث"اَفْطَرَالْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ"کی تفسیرکر دی جیساکہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2016