Main Icon

باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2006

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيرَةَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَنِ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِم فَرَخَّصَ لَهُ. وَأَتَاهُ آخَرُ فَسَأَلَهُ فَنَهَاهُ، فَإِذَا الَّذِي رَخَّصَ لَهٗ شَيْخٌ، وَإِذَا الَّذِي نَهَاهُ شَابٌّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن أبي هريرة: أن رجلا سأل النبي -صلی اللہ عليه وسلم- عن المباشرة للصائم فرخص له. وأتاه آخر فسأله فنهاه، فإذا الذي رخص له شيخ، وإذا الذي نهاه شاب. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ ایک شخص نے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ دار کے بوس و کنار کے متعلق پوچھا آپ نے اسے اجازت دے دی ۱؎خدمت عالی میں دوسرا حاضر ہوا اور یہ ہی پوچھا تو اسے منع فرمادیا جس کو اجازت دی تھی وہ بڈھا تھا اور جسے منع کیا وہ جوان تھا ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس سے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ تجھ جیسے روزہ دار کو بحالت روزہ بوس و کنار کی اجازت ہے یہ مسئلہ بتانا تھا۔
۲
؎اس تفریق سے مسئلہ فقہی واضح ہوا کہ بوڑھا یا بیمار یا کمزور یا بہت متقی جو بوس و کنار کے باوجود اپنے نفس پر قابو رکھے اسے اس کی اجازت ہے،دوسرے کے لیے نہیں تاکہ روزہ نہ توڑ بیٹھے،یہ حدیث صحیح ہے اس کی اسناد بہت جید و قوی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2006