Main Icon

باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2014

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهٗ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الظَّمَأُ، وَكَمْ مِنْ قَائِمٍ لَيْسَ لَهٗ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَذُكِرَ حَدِيثُ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ فِي "بَابِ سُنَنِ الوُضُوءِ".

وعنه قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "كم من صائم ليس له من صيامه إلا الظمأ، وكم من قائم ليس له من قيامه إلا السهر". رواه الدارمي وذكر حديث لقيط بن صبرة في "باب سنن الوضوء".

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے روزے دار وہ ہیں جنہیں روزوں سے پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ۱؎اور بہت سے شب خیز وہ ہیں جنہیں شب خیزی میں بے خوابی کے سواء کچھ میسر نہیں ۲؎(دارمی)اور لقیط ابن صبرہ کی حدیثباب سنن الوضوءمیں بیان کردی گئی۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ وہ لوگ ہیں جو روزے میں گالی گلوچ،جھوٹ،غیبت،بہتان وغیرہ گناہوں سے نہیں بچتے کہ یہ لوگ بھوک پیاس کی تکلیف تو اٹھاتے ہیں مگر روزہ کا ثواب حاصل نہیں کرتے،چونکہ روزے میں بمقابلہ بھوک کے پیاس کی تکلیف زیادہ ہوتی ہے اس لیے صرف پیاس کا ذکر فرمایا۔خیال رہے کہ ایسے روزے سے فرض شرعی ادا ہوجائے گا ادا اور چیز ہے اس کے شرائط کچھ اور اور قبولیت دوسری چیز ہے اس کے شرائط بھی دوسرے۔
۲
؎یعنی وہ تہجد خواں جو حضور قلبی کے بغیر تہجد پڑہیں وہ جاگنے کی مشقت تو اٹھالیتے ہیں مگر اس کا ثواب نہیں پاتے۔اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو مغصوب زمین میں نماز پڑھیں اور نماز میں ممنوعات سے بچیں نہیں اورسنن و مستحبات کا لحاظ نہ رکھیں اس فرمان کا منشاء یہ نہیں ہے کہ ایسے لوگ روزہ یا تہجد چھوڑ دیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ یہ برائیاں چھوڑ دیں اللہ تعالٰی انہیں محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں مقبول عبادتوں کی توفیق دے،ہم کمزور ہیں نفس امارہ اور شیطان جیسے قوی دشمنوں میں گھرے ہیں،اے قوی وقادر ہمیں اپنی امان میں لے لے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2014