Main Icon

باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2013

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ وَلَا مَرَضٍ لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ وَإِنْ صَامَهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ بَابٍ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا -يَعْنِي البُخَارِيَّ- يَقُولُ: أَبُو الْمُطَوِّسِ الرَّاوِي لَا أَعْرِفُ لَهٗ غَيْرَ هٰذَا الْحَدِيثِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "من أفطر يوما من رمضان من غير رخصة ولا مرض لم يقض عنه صوم الدهر كله وإن صامه". رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي والبخاري في ترجمة باب، وقال الترمذي: سمعت محمدا -يعني البخاري- يقول: أبو المطوس الراوي لا أعرف له غير هذا الحديث.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے جو رمضان میں بغیر شرعی اجازت اور بغیر بیماری ایک دن کا روزہ نہ رکھے تو اگرچہ پھر عمر بھر روزہ رکھے اس کی قضا نہ کرے گا ۱؎(احمد،ترمذی، ابوداؤد،ابن ماجہ دارمی)اور بخاری نے ترجمہ باب میں روایت کیا۔ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد یعنی امام بخاری کو فرماتے سنا کہ ابو المطوس راوی سے اس حدیث کے سواء اور حدیث مجھے معلوم نہیں ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بلاوجہ رمضان میں ایک روزہ بھی نہ رکھنے والا اس کے عوض عمر بھر روزہ رکھے تو وہ درجہ اور ثواب نہ پائے گا جو رمضان میں رکھنے سے پاتا اگرچہ شرعًا ایک روزے سے اس کی قضا ہوجائے گی ادائے فرض اور ہے درجہ پانا کچھ اور۔رخصت سے مراد شرعی اجازت ہے جیسے سفر یا عورت کا حمل یا بچہ کو دودھ پلانا وغیرہ۔اس سے معلوم ہوا کہ وقت پر عبادت کرلینا بہت بہتر ہے،نماز وغیرہ ساری عبادات کا یہی حال ہے۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جوانی کی عبادت بڑھاپے کی عبادت سے افضل ہے کہ عبادات کا اصل وقت جوانی ہے۔شعر
کر جوانی میں عبادت کاہلی اچھی نہیں جب بڑھاپا آگیا کچھ بات بن پڑتی نہیں
ہے بڑھاپا بھی غنیمت جب جوانی ہوچکی یہ بڑھاپا بھی نہ ہوگا موت جس دم آگئی
وقت کی قدر کرو،اسے غنیمت جانو۔
ع! گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں۔
۲
؎یعنی اس حدیث کی اسناد میں حضرت ابوہریرہ سے روایت کرنے والے راوی ابوالمطوس ہیں ان سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے ابن خلف قرطبی نے فرمایا کہ یہ حدیث ضعیف ہے مگر خیال رہے کہ ایک اسناد ضعیف ہونے سے متن حدیث کا ضعیف ہوجانا لازم نہیں،ترمذی کی اسناد میں ابوالمطوس ہیں باقی ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی و احمد نے مختلف اسنادوں سے یہ حدیث نقل کی،تعدد اسناد ضعیف حدیث کو قوی کردیتا ہے۔ (مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2013