Main Icon

باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2000

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِأَرَبِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عائشة قالت: كان رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- يقبل ويباشر وهو صائم، وكان أملككم لأربه. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوس و کنار کرلیتے تھے اور حضور اپنے نفسی حاجت پر سب سے زیادہ مالک(قادر)تھے ۱؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سے معلوم ہوا کہ روزہ دار اگر اپنے نفس پر پورا قابو رکھتا ہو یا بیماری یا بڑھاپے کے ضعف کی وجہ سے یا تقویٰ و پرہیزگاری کی وجہ سے وہ اپنی بیوی سے بوس و کنار کرسکتا ہے اور جو قابو نہ رکھے وہ ہرگز ہرگز یہ کام نہ کرے،اس لیے ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نفسی حاجت پر قادر تھے،حضرت عائشہ کا ایسے واقعات بیان فرمانا مسئلہ شرعی کے بیان کے لیے ہے اسے بے غیرتی کہنا حماقت ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"لِفُرُوۡجِہِمْ حٰفِظُوۡنَ"۔طبیب لوگ بیماریوں و علاجوں کے بیان میں کھلی کھلی باتیں بیان کرتے ہیں بے غیرتی کے لیے نہیں بلکہ بیان علاج کے لیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2000