Main Icon

باب : لڑائیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5419

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ،ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحَهُ اللَّه". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن نافع بن عتبة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "تغزون جزيرة العرب فيفتحها الله، ثم فارس فيفتحها الله،ثم تغزون الروم فيفتحها الله، ثم تغزون الدجال فيفتحه الله". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع ابن عتبہ سے فرماتے ہیں ۱∞؎فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ تم لوگ جزیرہ عرب پر جہادکرو گے تو الله اسے فتح فرمادے گا ۲؎تو پھرفارس پر تو الله وہ بھی فتح کردے گا پھر تم روم پر غزوہ کرو گے تو الله وہ بھی فتح کردے گا۳؎پھر تم دجال پر جہاد کرو گے تو الله وہ بھی فتح کردے گا ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎نافع ابن عتبہ ابن ابی وقاص زہری ہیں،حضرت سعد ابن ابی وقاص کے بھتیجے فتح مکہ کے دن ایمان لائے،آپ کا لقب مرقال تھا۔۲؎یعنی عرب کا کچھ حصہ ہم فتح فرمالیں گے بقیہ حضرات صحابہ فتح کریں گے حتی کہ جزیرہ عرب میں سواء اسلام کے کوئی دین نہ رہے گا یہ واقعہ ہوچکا۔۳؎یہ دونوں ملک عہد فاروقی میں فتح ہوئے اور آج تک مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں فارس تو سارا اور روم کا اکثر حصہ۔۴؎اس فرمان عالی میں خطاب صحابہ کرام سے نہیں بلکہ مسلمانوں سے ہے کیونکہ دجال کا مقابلہ حضرات صحابہ نہیں کریں گے۔ہوسکتا ہے کہ خطاب صحابہ کرام سے ہی ہو کیونکہ خضر علیہ السلام اس مقابلہ میں موجود ہوں گے۔صلح حدیبیہ میں حضرت خضر نے حضور سے بیعت کی ہے جیساکہ ہم بیعت الرضوان کے بیان میں عرض کرچکے ہیں،بلکہ بعض محدثین فرماتے ہیں کہ وہ مدنی صاحب جنہیں ایک دجال ذبح کرکے زندہ کرے گا پھر نہ مار سکے گا وہ خضر علیہ السلام ہی ہوں گے یعنی تم دجال پر جہاد کرو گے جن علاقوں پر اس نے قبضہ کرلیا ہوگا تم دجال کو قتل کرکے ان پر قبضہ کرو گے لہذا حدیث واضح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5419