Main Icon

باب : لڑائیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5411

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعْرُ، وَحَتَّى تُقَاتِلُوا التُّرْكَ صِغَارَ الأَعْيُنِ، حُمْرَ الْوُجُوهِ، ذُلْفَ الأُنُوفِ،كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ المَجَانُّ المُطْرَقَةُ". مُتَّفقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما نعالهم الشعر، وحتى تقاتلوا الترك صغار الأعين، حمر الوجوه، ذلف الأنوف،كأن وجوههم المجان المطرقة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ تم ایسی قوم سے جہاد کروگے جن کی جوتیاں بال کی ہونگی ۱∞؎اور حتی کہ تم ترکوں سے جنگ کروگے۲؎چھوٹی آنکھوں والے سرخ چہرے والے چپٹی ناک والے ان کے چہرے گویا کٹی ہوئی ڈھال ہیں ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی کے چند معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ اس قوم کے سر کے بال پاؤں تک دراز ہوں گے بال گویا جوتے بن گئے ہوں گے۔دوسرے یہ کہ ان کی پنڈلیوں پر بہت بڑے بڑے بال ہوں گے جو ان کے قدموں تک جوتے کی طرح پہنچے ہوں گے۔تیسرے یہ کہ ان کے جوتے بے چھلی کھال کے ہوں گے جن سے بال دور نہ کیے گئے ہوں یعنی خچر کی کھال والے چمڑے کے جوتے پہنتے ہوں گے،یہ تیسرے معنی زیادہ قوی ہیں۔۲؎یہاں ترک سے مراد موجودہ ترک نہیں یہ تو قدیم الاسلام خدام الحرمین ہیں،انہوں نے دین رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی بڑی خدمت کی،ان کی خدمتیں مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ وغیرہ میں جاکر دیکھو،وہ ترک یا جوج ماجوج کا ایک قبیلہ ہیں،یا جوج ماجوج کے بائیس قبیلے ہیں اکیس قبیلوں پر ذوالقرنین نے دیوار بنائی اسی قبیلہ کو چھوڑ دیا اس لیے اسے ترک کہتے ہیں یعنی باہر چھوڑا ہوا قبیلہ لہذا حدیث واضح ہے۔(مرقات)۳؎یعنی وہ بہت ہی بدصورت ہوں گے،چہرے سرخ آنکھیں چھوٹی،ناک چپٹی چہرے بالکل گول جیسے کٹی ہوئی ڈھال کیونکہ اگر ڈھال کوٹ دی جاوے تو بالکل گول ہوتی ہے۔ان علامات سے معلوم ہورہا ہے کہ ترک سے مراد یہ موجودہ ترک نہیں کہ ان کے چہرے ایسے نہیں ہوتے،یہ لوگ تو بڑے خوبصورت ہیں۔یہاں مرقات میں فرمایا کہ یہ لوگ شکل میں ناس ہیں مگر سیرت میں نستاس یعنی یعنی بن مانس نہایت ہی فسادی خونخوار،یہ جنگ ابھی نہیں ہوئی قریب قیامت ہوگی۔اگلی حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ لوگ خوز اور کرمان سے نکلیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5411