Main Icon

باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 927

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهٗ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهٗ وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ عِنْدَهٗ أَبَوَاهُ الْكِبَرَ أَوْ أَحَدُهُمَا فَلَمْ يُدْخِلَاهُ الْجنَّةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «رغم أنف رجل ذكرت عنده فلم يصل علي ورغم أنف رجل دخل عليه رمضان ثم انسلخ قبل أن يغفر له ورغم أنف رجل أدرك عنده أبواه الكبر أو أحدهما فلم يدخلاه الجنة» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اس کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر ہو اور مجھ پر درود نہ پڑھے ۱؎اس کی ناک گرد آلود ہو جس پر رمضان آئے پھر اس کی بخشش سے پہلے گزر جائے اس کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے اس کے ماں باپ یا ان میں سے ایک بڑھاپا پائے اور اسے جنت میں نہ پہنچائیں ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ایسا مسلمان خوارو ذلیل ہو جائے جو میرا نام سن کر درود نہ پڑھے۔ عربی میں اس بددعا سے مراد اظہار ناراضی ہوتا ہے حقیقتًا بد دعا مراد نہیں ہوتی، اس حدیث کی بناء پر بعض علماء نے فرمایا کہ ایک ہی مجلس میں اگر چند بار حضور کا نام شریف آوے تو ہر بار درود شریف پڑھنا واجب ہے، مگر یہ استدلال کچھ کمزور سا ہے کیونکہرَغِمَ اَنفٌہلکا کلمہ ہے جس سے درود کا استحباب ثابت ہو سکتا ہے نہ کہ وجوب۔ مطلب یہ ہے کہ جو بلا محنت دس رحمتیں، دس درجے، دس معافیاں حاصل نہ کرے بڑا بیوقوف ہے۔
۲
؎یعنی وہ مسلماں بھی ذلیل و خوار ہوجائے جو رمضان کا مہینہ پائے اور اسکا احترام اوراس میں عبادات کرکے گناہ نہ بخشوائے، یونہی وہ بھی خوار ہو جس نے جوانی میں ماں باپ کا بڑھاپا پایا پھر ان کی خدمت کر کے جتنی نہ ہوا۔ بڑھاپے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ بڑھاپے میں اولاد کی خدمت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور اس وقت کی دعا اولادکا بیڑا پار کردیتی ہے۔ خیال رہے کہ یہ تینوں چیزیں مسلمان کے لیے مفید ہیں، کافر کسی نیکی سے جنتی نہیں ہوسکتا ،ہاں بعض نیکیوں کی وجہ سے اسے ایمان لانے کی توفیق مل جاتی ہے اور بعض کی برکت سے اس کا عذاب ہلکا ہو جاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 927