Main Icon

باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 932

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يُكْتَالَ بِالْمِكْيَالِ الْأَوْفٰى إِذَا صَلّٰى عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ فَلْيَقُلْ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ النَّبِيِِّ الْاُمِّیِّ وَأَزْوَاجِهٖ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَذُرِّيَّتِہٖ وَأَهْلِ بَيْتِهٖ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى اٰلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيدٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من سره أن يكتال بالمكيال الأوفى إذا صلى علينا أهل البيت فليقل اللهم صل علی محمد النبي الامی وأزواجه أمهات المؤمنين وذريتہ وأهل بيته كما صليت على ال إبراهيم إنك حميد مجيد» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جسے پسند ہو کہ اس کو پوری ناپ ملے ۱؎تو جب ہم اہل بیت پر درود پڑھے تو کہے الٰہی اُمی نبی حضور محمد پر ۲؎اور مسلمانوں کی ماؤں یعنی حضور کی بیویوں پر اور ان کی اولاد پر اور اہل بیت پر۳؎رحمت بھیج جیسے آل ابراہیم پر تو نے رحمت بھیجی ۴؎تو حمد و بزرگی والا ہے۔(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی درود کا پورا ثواب ملےاور دعا پورے طور پر قبول ہو،نیز ہر مراد حاصل ہو۔
۲
؎حضور نبی بھی ہیں اور امی بھی۔ نبی کے معنی ہیں غیب کی خبر دینے والا یا امت کی خبر رکھنے والا یا بے کسوں کی خبر لینے والا یا بڑی شان والا۔ یہ لفظنَبَاءٌسے بنا یانَبُوَّۃٌسے۔ شریعت میں نبی وہ انسان ہے جس پر وحی کی جائے تبلیغ کا حکم ہو یا نہ ہو رسول وہ ہیں جن پر وحی بھی ہو اور تبلیغ کا حکم بھی۔ امّی ام کی طرف منسوب ہے بمعنی ماں یا اصل حضور کے امی ہونے کے یہ معنی ہیں کہ آپاُمُّ القُریٰیعنی مکہ معظمہ کے رہنے والے ہیں، مکہ معظمہ ساری زمین کی اصل ہے لہذااُمُّ القُریٰکہلاتا ہے یا یہ کہ آپ بغیر کسی سے سیکھے شکم مادر سے عالمعارف باللهپیدا ہوئے یا یہ کہ آپام الکتابیعنی لوح محفوظ کے عالم و حافظ ہیں، آپ بڑی شاندار ماں کے فرزند ہیں کہ آمنہ خاتون جیسی ماں نہ کوئی ہوئی نہ ہو رَضِيَ اللهُ عَنْهَا۔ سیدنا آمنہ خاتون کے فضائل ہماری کتاب تفسیر نعیمی جلد اول میں دیکھو۔
۳
؎یہ عطف تفسیری ہے کیونکہ حضور علیہ السلام کی بیویاں اور اولاد ہی تو اہل بیت ہیں، حضور علیہ السلام کی ساری بیویاں عزت و احترام اور نکاح کی حرمت کے لحاظ سے مسلمانوں کی مائیں ہیں اگرچہ ان سے پردہ واجب، ان کی میراث کا استحقاق نہیں، ان کی اولاد سے امت کا نکاح جائز یعنی وہ بہنیں نہیں۔
۴
؎آل ابراہیم میں حضور بھی داخل ہیں لہذا اس کلمے میں بھی حضور پر درود ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 932