Main Icon

باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 925

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتّٰى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ما من أحد يسلم علي إلا رد الله علي روحي حتى أرد عليه السلام» . رواه أبو داود والبيهقي في الدعوات الكبير

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجھ پر کوئی شخص سلام نہیں بھیجتا مگر الله مجھ پر میری روح لوٹاتا ہے حتی کہ میں اس کا جواب دیتا ہوں ۱؎(ابوداؤد، بیہقی ، دعوات کبیر )

شرح حدیث

۱∞؎یہاں روح سے مراد توجہ ہے نہ وہ جان جس سے زندگی قائم ہے حضور تو بحیات دائمی زندہ ہیں۔ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ میں ویسے تو بے جان رہتا ہوں کسی کے درود پڑھنے پر زندہ ہو کر جواب دیتا رہتا ہوں ورنہ ہر آن حضور پر لاکھوں درود پڑھے جاتے ہیں تو لازم آئے گا کہ ہر آن لاکھوں بار آپ کی روح نکلتی اور داخل ہوتی رہے۔ خیال رہے کہ حضور ایک آن میں بے شمار درود خوانوں کی طرف یکساں توجہ رکھتے ہیں، سب کے سلام کا جواب دیتے ہیں جیسے سورج بیک وقت سارے عالم پر توجہ کر لیتا ہے ایسے آسمان نبوت کے سورج ایک وقت میں سب کا درود سلام سن بھی لیتے ہیں اور اس کا جواب بھی دیتے ہیں لیکن اس میں آپ کو کوئی تکلیف بھی محسوس نہیں ہوتی کیوں نہ ہو کہ مظہر ذات کبریا ہیں، رب تعالٰی بیک وقت سب کی دعائیں سنتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 925