Main Icon

باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 938

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوفٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا يَصْعَدُ مِنْہا شَيْءٌ حَتّٰى تُصَلِّيَ عَلٰی نَبِيِّكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: إن الدعاء موقوف بين السماء والأرض لا يصعد منہا شيء حتى تصلي علی نبيك. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں کہ دعا آسمان اور زمین کے درمیان ٹھہری رہتی ہے اس سے کوئی چیز نہیں چڑھتی حتی کہ تم اپنے نبی پر درود بھیجو ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت عمرکا یہ قول اپنی رائے سے نہیں بلکہ حضور علیہ السلام سے سن کر ہے کیونکہ یہ باتیں صرف رائے سے نہیں کہی جاتیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ درود دعا کی قبولیت بلکہ بارگاہِ الہی میں پیش ہونے کا ذریعہ ہے۔شعر
مورمسکین ہو سی داشت کہ درکعبہ رسید
دست درپائے کبوتر زودناگاہ رسید
چیونٹی اگر کعبہ کا طواف چاہے توکبوتر کے پاؤں سے لپٹے۔دعا اگر قرب الٰہی کا طواف چاہے تو حضور علیہ السلام کے قدم سے لپٹے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 938