Main Icon

باب:خلع اور طلاق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3286

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "كُلُّ طَلَاقٍ جَائِزٌ إِلَّا طَلَاقَ الْمَعْتُوهِ وَالْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَعَطَاءُ ابْنُ عَجْلانَ الرَّاوِي ضَعِيفٌ ذَاهِبُ الحَدِيثِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "كل طلاق جائز إلا طلاق المعتوه والمغلوب على عقله". رواه الترمذي وقال:هذا حديث غريب، وعطاء ابن عجلان الراوي ضعيف ذاهب الحديث.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر طلاق جائز ہے سوائے دیوانہ اور مغلوب العقل کی طلاق کے ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور عطاء ابن عجلان راوی ضعیف حدیث بھول جانے والے ہیں ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا مغلوب العقل معتوہ کی تفسیر ہے اور یہ عطف تفسیری ہے ہوسکتا ہے کہ معتوہ وہ جس کی عقل میں فتور ہو اور مغلوب العقل بالکل دیوانہ حضرت علی امام مالک،امام شافعی،امام اوزاعی،سفیان ثوری امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ نشہ والے کی طلاق واقعی ہوجاوے گی اگرچہ وہ بے عقل ہوچکا ہو جب کہ اس نے گناہ کے طور پر نشہ کیا اسی لیے اسپر نمازیں معاف نہیں ہوتیں۔بچے،دیوانہ،سوتے ہوئے بے ہوش کی طلاق نہیں ہوتی۔
۲
؎اس حدیث کی تائید میں بہت زیادہ احادیث بخاری ابن ابی شیبہ وغیرہ میں آئی ہیں اگر تفصیل دیکھنا ہو تو یہاں مرقات کا مطالعہ کیجئے،لہذا اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہو مگر دوسری احادیث کی تائید سے قوی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3286