Main Icon

باب:خلع اور طلاق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3287

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَبْلُغَ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.

وعن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ، وعن الصبي حتى يبلغ، وعن المعتوه حتى يعقل". رواه الترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے قلم اٹھالیا گیا ہے تین شخصوں سے ۱؎سوتا ہوا حتی کہ جاگ جائے اور بچے سے حتی کہ بالغ ہوجائے اور دیوانہ سے یہاں تک کہ عقل والا ہوجائے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ان پر سزا و جزا نہیں ہوتی۔
۲
؎حدیث کا مقصد یہ ہے کہ نابالغ بچہ سوتا ہوا آدمی اور دیوانہ مرفوع القلم ہیں ان پر شرعی احکام جاری نہیں لہذا اگر یہ لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دے دیں تو واقع نہ ہوگی۔ اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ بچہ کی طلاق واقع نہیں ہوتی یوں ہی سوتے میں اگر کوئی طلاق دے دے یا دیوانگی میں تو بھی طلاق نہیں ہوتی،یہ حدیث جامع صغیر،احمد،ابوداؤد،نسائی حاکم نے مختلف صحابہ سے مختلف الفاظ میں نقل فرمائی،بخاری نے تعلیقًا موقوفًا حضرت علی سے روایت کی غرضکہ حدیث صحیح ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3287