Main Icon

باب:خلع اور طلاق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3293

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَن مَالِكٍ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي مِئَةَ تَطْلِيقَةٍ فَمَاذَا تَرَى عَلَيَّ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: طُلِّقَتْ مِنْكَ بِثَلَاثٍ، وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ بِهَا آيَاتِ اللّٰهِ هُزُوًا. رَوَاهُ فِي "الْمُوَطَّأ".

وعن مالك بلغه أن رجلا قال لعبد الله بن عباس: إني طلقت امرأتي مئة تطليقة فماذا ترى علي؟ فقال ابن عباس: طلقت منك بثلاث، وسبع وتسعون اتخذت بها آيات الله هزوا. رواه في "الموطأ".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مالک سے انہیں خبر پہنچی ہے کہ کسی شخص نے حضرت عبداابن عباس سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں آپ مجھ پر کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ وہ تین طلاقوں سے تجھ سے مطلقہ ہوچکی اور ستانویں طلاقوں کے ذریعہ تو نے اکی آیتوں کا مذاق اڑا لیا ۱؎(مؤطا)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک دم تین طلاقیں تین ہی واقع ہوں گی اور اگر کوئی شخص ہزار یا لاکھ طلاقیں دے دیں تو تین تو واقع ہو جائیں گی باقی لغو جائیں گی یہ ہی علماء امت کا قول ہے اس پر تمام آئمہ متفق ہیں وہ جو مسلم شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں نیز صدیق اکبر کے زمانہ اور شروع خلافت فاروقی میں ایک دم تین طلاقیں ایک مانی جاتی تھیں پھر فاروق اعظم نے انہیں تین طلاق قرار دیا وہاں تو یہ مراد ہے کہ کوئی شخص تین طلاق اس طرح دیتا کہ تجھے طلاق ہے،طلاق،طلاق، دوسری دو طلاقوں سے پہلی طلاق کی تاکیدیں کرتا تھا اور کوئی شخص اپنی غیر مدخولہ بیوی جس سے صرف نکاح ہوا ہو رخصت نہ ہوئی ہو اس سے کہے تجھے طلاق ہے تجھے طلاق ہے تجھے طلاق تو اس سے صرف ایک طلاق پہلی ہی واقع ہوگی دوسری دو طلاقیں واقع نہ ہوں گی کیونکہ غیر مدخولہ عورت پر عدت نہیں ہوگی وہ پہلی طلاق سے ہی نکاح سے بالکل ہی خارج ہوگئی،عہد فاروقی میں حالات بدل چکے تھے لوگ اپنی مدخولہ بی بی کو تین طلاقیں ہی دیا کرتے تھے لہذا حضرت فاروق اعظم کا فرمان عالی نہایت ہی درست وصحیح تھا ورنہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حضرت فاروق اعظم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف قانون جاری فرماتے اور تمام صحابہ کرام خاموش رہتے لہذا حکم یہ ہی ہے کہ جو شخص اپنی مدخولہ بیوی کو جس سے خلوت کرچکا ہو تین طلاقیں ایک دم دے تو تین ہی واقع ہوں گی۔ اس جگہ مرقات نے اس کے متعلق قریبًا پندرہ بیس حدیثیں نقل فرمائیں کہ تین طلاقیں تین ہی واقع ہوں گی اور اس کے خلاف متعدد جوابات دیئے،نیز ہم نے اپنی کتابطلاق الادلۃ فی احکام الطلاق الثلثۃمیں اس کی بہت تحقیق کی ہے وہاں ملاحظہ فرمایئے غرض یہ ہی حق ہے کہ تین طلاقیں تین ہی ہوں گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3293