Main Icon

باب:خلع اور طلاق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3277

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فِي الْحَرَامِ يُكَفِّرُ، لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّه أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عباس قال: في الحرام يكفر، لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے آپ نے حرام کے بارے میں فرمایا کہ کفارہ دے ۱؎بے شک تمہارے لیے رسول امیں اچھی پیروی ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر کوئی شخص اپنی بیوی یا کسی اور حلال چیز کو اپنے پر حرام کرے تو یہ تحریمہ قسم ہے جس میں کفارہ واجب ہوگا یہ ہی قوی ہے۔حضرت ابن عباس اور امام اعظم کے ہاں اگر طلاق کی نیت سے حرام کرے تو ایک طلاق بائنہ واقع ہوگی اس کی تحقیق کتب فقہ میں ہے۔
۲
؎کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پر شہد یا بی بی ماریہ کو حرام کیا تھا تو رب تعالٰی نے اسے قسم قرار دیا تھا کہ فرمایا:"یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللہُ"پھر فرمایاقَدْ فَرَضَ اللہُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیۡمٰنِکُمْ"۔اس آیت سے بھی معلوم ہورہا ہے کہ حلال کو حرام کرلینا قسم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3277