Main Icon

باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3252

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي، وَإِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالدَّارِمِيُّ.

وعنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي، وإذا مات صاحبكم فدعوه". رواه الترمذي، والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہو اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہوں ۱؎اور جب تمہارا ساتھی مرجائے تو اسے چھوڑدو ۲؎(ترمذی،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بڑا خلیق وہ ہے جو اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خلیق ہو کہ ان سے ہر وقت کام رہتا ہے اجنبی لوگوں سے خلیق ہونا کمال نہیں کہ ان سے ملاقات کبھی کبھی ہوتی ہے۔ہم نے اس اخلاق کریمانہ کا نمونہ قائم فرمادیا ہے۔سبحان اﷲ!۲؎یعنی خاوند بیوی میں سے جو مرجائے تو اسے دوسرا اچھائی سے یاد کرے برائیاں بیان نہ کرے یا کوئی مسلمان بھائی مرجائے تو اس کے عیوب بیان نہ کیے جائیں کہ مردہ کی غیبت بدترین گناہ ہے کیونکہ اس سے معاف نہیں کراسکتے۔خیال رہے کہ راویان حدیث کے عیوب بیان کرنا غیبت نہیں بلکہ یہ حدیث کی تحقیق ہے۔ غیبت کی تحقیق اور اس کے اقسام و احکام ہمارے فتاویٰ میں ملاحظہ فرمایئے اور کچھ اس کتاب میں بھی عرض کیے جاچکے ہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ مردہ کی غیبت نہ کرو زندہ مسلمان کی غیبت خوب کیا کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3252