Main Icon

باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3260

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ لِي امْرَأَةً فِي لِسَانِهَا شَيْءٌ يَعْنِي الْبَذَاءَ، قَالَ: "طَلِّقهَا" قُلْتُ: إِنَّ لِي مِنْهَا وَلَدًا وَلَهَا صُحْبَةٌ قَالَ: "فَمُرْهَا" يَقُولُ: عِظْهَا "فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَقْبَلُ، وَلَا تَضْرِبَنَّ ظَعِيْنَتَكَ ضَرْبَكَ أُمَيَّتَكَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن لقيط بن صبرة قال: قلت: يا رسول الله! إن لي امرأة في لسانها شيء يعني البذاء، قال: "طلقها" قلت: إن لي منها ولدا ولها صحبة قال: "فمرها" يقول: عظها "فإن يك فيها خير فستقبل، ولا تضربن ظعينتك ضربك أميتك". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت لَقیط ابن صبرہ سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسولمیری ایک بیوی ہے جس کی زبان میں کچھ ہے یعنی بدزبانی یا تیز زبانی ۲؎فرمایا اسے طلاق دے دو میں نے عرض کیا کہ اس سے میرے بچے ہیں،اور اسے میری پرانی صحبت ہے ۳؎فرمایا تو اسے حکم دو یعنی نصیحت کرو اگر اس میں بھلائی ہوئی تو قبول کرے گی ۴؎اور اپنی بیوی کو اپنی لونڈی کی سی مار نہ لگاؤ ۵؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ لَقیط ابن عامر ابن صبرہ ہیں،صبرہ آپ کے دادا ہیں،مشہور صحابی ہیں طائف کے رہنے والے(مرقات واشعہ)
۲
؎فرمایئے تیز زبان بیوی کو سزا کیا دی جائے۔حضرات صحابہ حضور کو حکیم مطلق مان کر اپنے گھریلو معاملات تک آپ پر پیش کرکے اصلاح چاہتے تھے۔
۳
؎یہاں طلاق کا حکم اباحت کے لیے ہے،بدزبان بیوی کو طلاق دے دینا مباح ہے ان صحابی کا یہ جواب طلاق سے معذرت کرنے کے لیے ہے کہ اس سے بچے برباد ہوجائیں گے مجھے تکلیف ہوگی۔
۴
؎معلوم ہوا کہ نافرمان بیوی کو وعظ و نصیحت کرنا بہت محبوب ہے،انسان پہلے اپنی اصلاح کرے پھر اپنے گھر والوں کی پھر عزیز و اقارب کی پھر دوسروں کی آج کل عمومًا واعظین وعلماء کی بیویاں ہی زیادہ نافرمان دیکھی گئی ہیں کیونکہ ان کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔
۵
؎ظعینہ ظعنسے بنا،سفر در ہودج چونکہ بی بی گھر میں ایسی رہتی ہے جیسے مسافر اونٹ پر ہودج میں اس لیے اسے ظعینہ کہا جاتا ہےامیہ امۃبمعنی لونڈی کی تصغیر ہے یعنی بیویوں کو لونڈیوں کی طرح مار نہ لگاؤ،اس سے معلوم ہوا کہ معمولی مار کی اجازت ہے، حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی کسی بیوی کو کبھی نہ مارا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3260