Main Icon

باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3261

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسِ ا بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تَضْرُبوا إِمَاءَ اللّٰهِ" فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ذَئِرْنَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، فَرَخَّصَ فِي ضَرْبِهِنَّ، فَأَطَافَ بآلِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءٌ كَثِيرٌ، يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كَثِيرٌ، يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ، لَيْسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارمِيُّ.

وعن أنس ا بن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا تضربوا إماء الله" فجاء عمر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ذئرن النساء على أزواجهن، فرخص في ضربهن، فأطاف بآل رسول الله صلى الله عليه وسلم نساء كثير، يشكون أزواجهن، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لقد طاف بآل محمد نساء كثير، يشكون أزواجهن، ليس أولئك بخياركم". رواه أبو داود وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس ابن عبدسے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہکی بندیوں کو نہ مارو ۱؎پھر جناب عمر رسولصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے بولے عورتیں اپنے خاوندوں پر دلیر ہوگئیں ۲؎تب انہیں مارنے کی اجازت دی ۳؎پھر بہت سی عورتوں نے اہل بیت رسول اصلی اللہ علیہ و سلم پر چکر لگائے ۴؎جو اپنے خاوندوں کی شکایت کرتی تھیں تب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہماری اہل بیت پر بہت عورتیں چکر لگارہی ہیں اپنے خاوندوں کی شکایت کرتی ہیں یہ لوگ تم میں اچھے نہیں ۵؎(ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جیسے مردکے بندے ہیں ایسے ہی عورتیںکی بندیاں ہیں جیسے مولیٰ اپنے غلام کو مارنے والے پر ناراض ہوتا ہے ایسے ہیتعالٰی ظلمًا مارنے والے پر ناراض ہوگا نہ کسی مرد کو مارو نہ عورت کو۔
۲
؎یہاںالنساء ذئرنکا فاعل نہیں ہے ورنہ فعل واحد آتا بلکہ فاعل کا بدل ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"اَضَلُّوۡا کَثِیۡرًا‘‘ مطلب یہ تھا کہ جب عورتوں کو پتہ لگ گیا کہ ہمارے خاوند ہم کو قطعًا مارسکتے نہیں،تو وہ کچھ دلیر سی ہوگئیں۔
۳
؎معلوم ہوتا ہے کہ اولًا قصور پر مارنے کی بھی اجازت نہ تھی اب قصور پر مارنے کی اجازت دی گئی معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم مالک احکام ہیں۔
۴
؎یہاں آل سے مراد بیویاں ہیں،قرآن شریف میں آل بیویوں کو ہی کہا گیا ہے بیویاں اہل بیت سکونت ہوتی ہیں اور بچے اہل بیت ولادت یعنی عورتیں براہ راست بارگاہ نبوی میں حاضری کی تو ہمت نہ کرسکیں اس لیے ازواج پا ک کی خدمت میں حاضر ہو کر بالواسطہ اپنے خاوندوں کی شاکی ہوئیں ۔
۵
؎خلاصہ یہ ہے کہ قصور مند بیوی کو اصلاح کے لیے مارنا جائز ہے مگر نہ مارنا اور وعظ و نصیحت سے اصلاح کرنا بہتر ہے بلا قصور مارنا حرام جس پر پکڑ ہوگی،یونہی بہت مارنا بے دردی سے یہ حرام ہے،بیوی کی سختی برداشت کرنا،یونہی خاوند کی سختی جھیلنا اور نباہ کرنا بڑے اجر کا باعث ہے۔
۶
؎یہ حدیث حاکم نے ایاس ابن عبداابن ابی ذباب سے نقل فرمائی(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3261