Main Icon

باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3243

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ لِي صَوَاحِبُ يَلْعَبْنَ مَعِي، فَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ يَنْقَمِعْنَ فَيُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ فَيَلْعَبْنَ مَعِي. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عائشة قالت: كنت ألعب بالبنات عند النبي صلى الله عليه وسلم ، وكان لي صواحب يلعبن معي، فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دخل ينقمعن فيسربهن إلي فيلعبن معي. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس گڑیوں سے کھیلتی تھی ۱؎اور میری کچھ سہیلیاں تھیں جو میرے ساتھ کھیلتی تھیں تو رسولصلی اللہ علیہ و سلم جب تشریف لاتے یہ چلی جاتیں ۲؎پھر حضور انہیں میری طرف بھیج دیتے تو وہ میرے ساتھ کھیلتیں۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بناتجمع ہےبنتکی بمعنی بچی و لڑکی،یہاں یا تو ساتھ کھیلنے والی لڑکیاں مراد ہیں توببمعنی مع ہے اور یا مراد گڑیاں ہیں کہ وہ بھی بچیوں کی شکل کپڑے سے بنائی جاتی ہیں اس لیے انہیں بنات کہتے ہیں،دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں،کیونکہ سہیلیوں کا ذکر تو آگے آرہا ہے،یہ گڑیاں یا تو آپ اپنے میکے سے لائی تھیں یا حضور کے ہاں آکر خود بنائی تھیں یا خود سرکار عالی نے بنوائی تھیں۔بہرحال اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچیوں کے لیے گڑیاں بنانا ان سے کھیلنا جائز ہے کہ یہ دراصل ان کو سینے پرونے اور کھانا تیار کرنے کی تعلیم کا ذریعہ ہے۔
۲
؎اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے بچوں کے کھلونے جائز فرمائے اگرچہ وہ شکل والے ہوں لہذا تصاویر کے حکم سے وہ علیحدہ ہیں۔ینقمعن قمعسے بنا بمعنی چھپ جانا،یہاں چلا جانا مراد ہے کہ چلے جانے سے بھی انسان چھپ جاتا ہے۔
۳
؎خلاصہ یہ ہے کہ محلہ کی بچیاں میرے ساتھ گڑیاں کھیلتی تھیں جب سرکار عالی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لاتے تو وہ اپنے اپنے گھر چلی جاتیں اور جب حضور باہر تشریف لیجاتے تو ان بچیوں کو ان کے گھروں سے میرے پاس بھیج دیتے تاکہ میرے ساتھ کھیلیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3243