Main Icon

باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3257

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ طَلْقِ ا بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ، وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن طلق ا بن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا الرجل دعا زوجته لحاجته فلتأته، وإن كانت على التنور". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت طلق ابن علی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب مرد اپنی بیوی کو اپنی ضرورت کے لیے بلائے ۲؎تو وہ فورًا اس کے پاس آئے اگرچہ تنور پر ہو ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،یمامہ سے ایلچیوں قاصد وں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
۲
؎حاجت سے مراد صحبت ہے جب کہ یہ صحبت کرانے کے لائق ہو۔
۳
؎اور روٹیاں تنور میں لگادی ہوں کہ اس حال میں وہاں سے ہٹنا روٹیاں جل جانے کا سبب ہے مگر یہ جب ہے کہ روٹیاں خاوند کی ہوں اگر کسی دوسری کی ہیں تو نہ جائے،اگر گئی اور روٹیاں ضائع ہو گئیں تو اس کا تاوان دینا ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3257