Main Icon

باب: بھولنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1022

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «مَنْ صَلّٰى صَلَاةً يَشُكُّ فِي النُّقْصَانِ فَلْيُصَلِّ حَتّٰى يَشُكَّ فِي الزِّيَادَة» . رَوَاهُ أَحْمدُ

وعن عبد الرحمن بن عوف قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من صلى صلاة يشك في النقصان فليصل حتى يشك في الزيادة» . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو نماز پڑھے کہ کمی میں شک کرے تو اور پڑھ لے حتی کہ زیادتی میں شک کرے ۱؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر نمازی کو تردد ہے کہ میں نے تین پڑھیں یا چار تو تین مان کر ایک رکعت اور مان لے تاکہ اب یہ تردد ہو جائے کہ چار پڑھیں یاپانچ اور سجدۂ سہو کرلے کہ اگر پانچ رکعتیں ہوگئیں ہوں تو تاخیر سلام کی وجہ سے جو نقصان پیدا ہوا اس کا بدلہ اس سے ہوجائے گا۔خیال رہے کہ اس سارے باب میں حضور علیہ السلام کے سہوؤں کا ذکر ہوا پہلیالتحیاتمیں نہ بیٹھنا دو رکعت پر سلام پھیر دینا،تین رکعت پر سلام پھیرنا،بجائے چار کے پانچ رکعتیں پڑھنا او ر ان سب میں سجدۂ سہو کا ذکر آیا۔ اس بناء پر فقہاء فرماتے ہیں کہ نماز کا واجب چھوٹ جانے سے سجدۂ سہو واجب ہوجاتا ہے نہ کہ سنتیں اور فرض چھوٹنے سے ہمارے مذہب میں فتویٰ اس پر ہے کہ ہر سجدۂ سہو کے لیے پہلےالتحیاتپڑھے اور ایک سلام پھیر کر د وسجدے کرے پھرالتحیاتدونوں درودو دعا پڑھ کر سلام پھیرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1022