Main Icon

باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2217

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَن بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ يَتَأَكَّلُ بِهِ النَّاسَ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَوَجْهُهٗ عَظْمٌ لَيْسَ عَلَيْهِ لَحْمٌ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ".

عن بريدة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من قرأ القرآن يتأكل به الناس جاء يوم القيامة ووجهه عظم ليس عليه لحم". رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو قرآن پڑھے ا س کے ذریعہ لوگوں سے کھائے ۱؎وہ قیامت کے دن یوں آئے گا کہ اس کے منہ میں ہڈیاں ہوں گی ۲؎گوشت نہ ہوگا ۳؎(بیہقی)شعب الایمان

شرح حدیث

۱∞؎جیسا آج کل دیکھاجارہا ہے کہ بعض بھکاری مسجدوں میں بلکہ گلی کوچوں میں تلاوت کرتے پھرتے ہیں اور ہاتھ پھیلایا ہوتا ہے یہ حرام ہے کہ اس میں قرآن کریم کی توہین ہے۔خیال رہے کہ طلباء سے ختم قرآن شریف کرا کر ان کی دعوت بھی کی جاتی ہے اور کچھ نقدی بھی دی جاتی ہے یا علمائے دین سے جلسوں میں وعظ کراکر کرایہ و نذرانے دیئے جاتے ہیں یہ تمام صورتیں اس حکم سے خارج ہیں کہ وہاں ختم اور وعظ فی سبیل اللہ ہے اور ان کی خدمت فی سبیل اللہ جیسے مدرسین دینیہ کی تنخواہیں یا خلفائے اسلامیہ کے بھاری بھاری وظیفے نیز دم و تعویذ کی اجرت بھی اس سے خارج ہے کہ وہ تو علاج کی ہے نہ کہ تلاوت قرآن کی خلفائے راشدین نے خلافت پرتنخواہ لی اور صحابہ نے سورت فاتحہ پڑھ کر مارگزیدہ پر دم کیا اجرت میں تیس بکریاں لیں جن کا گوشت حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی ملاحظہ فرمایا جیسا کہ اسی مشکوٰۃ شریفکتاب الاجارہمیںان شاء اللهآئے گا۔
۲
؎اس طرح کہ بھکاری چند لقمے حاصل کرنے کے لیے دروازہ پر بجائے صدا دینے کے قرآن کر یم پڑھے تاکہ لوگ کچھ دے دیں اسے قرآن پڑھانے والوں کی اجرت مدرسین و علماء کی تنخواہیں سے کوئی تعلق نہیں جیسا کہ روش حدیث سے ظاہر ہے۔
۳
؎یعنی ان کے چہروں پرذلت و خواری چھائی ہوگی جیسے آج بھی بعض لوگوں کو دیکھتے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ فقیر بھکاری ہے، خیال رہے کہ امت محمدیہ کے چھپے عیب اللہ تعالٰی بھی چھپائے گا،شان ستاری کی جلوہ گری ہوگی،مگر جو عیب خود ان لوگوں نے ہی علانیہ کئے ہوں وہ وہاں پر بھی علانیہ طور پر ظاہر ہوں گے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ یہ بھکاری تو امت مصطفوی میں سے تھا پھر اس کا یہ عیب کیوں ظاہر فرمایا گیا کیونکہ یہ اظہار تو خود وہ ہی کرچکا ہے رب تعالٰی کسی کا پردہ فاش نہیں کرے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2217