- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- قرآن کے فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 2222
باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2222
قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قُلتُ لعُثْمَان: مَا حَمَلَكُمْ أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَى الأَنْفَالِ وَهِيَ مِنَ الْمَثَانِيْ، وَإِلَى بَرَاءَةٍ وَهِيَ مِنَ الْمِائينِ، فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا وَلم تكْتبُوْا سَطْرَ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ ، وَوَضَعْتُمُوْهَا فِي السَّبعِ الطُّوَلِ؟ مَا حَمَلَكُمْ عَلٰى ذَلِك؟قَالَ عُثْمَانُ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مِمَّا يَأْتِيْ عَلَيْهِ الزَّمَانُ وَهُوَ تَنزلُ عَلَيْهِ السُّوَرُ ذَوَاتُ الْعَدَدِ، وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الشَّيْءُ دَعَا بَعْضَ مَنْ كَانَ يَكْتُبُ فَيَقُوْلُ: "ضَعُوْا هَؤُلَاءِ الآيَاتِ فِي السُّوْرَةِ الَّتِيْ يُذْكَرُ فِيْهَا كَذَا وَكَذَا"، فَإِذَا نزَلَتْ عَلَيْهِ الآيَةُ فَيَقُوْلُ: "ضَعُوْا هٰذِهِ الآيَةَ فِي السُّوْرَةِ الَّتِيْ يُذْكَرُ فِيْهَا كَذَا وَكَذَا". وَكَانَتِ الأَنْفَالُ مِنْ أَوَائِلِ مَا نَزَلَتْ بِالْمَدِيْنَةِ، وَكَانَتْ بَرَاءَةُ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ نُزُوْلًا، وَكَانَت قِصَّتُهَا شَبيهَةً بِقِصَّتِهَا، فَقُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّهَا مِنْهَا، فَمِنْ أَجْلِ ذٰلِكَ قَرَنْتُ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ أَكْتُبْ بَينَهُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ ،وَوَضَعْتُهَا فِي السَّبْعِ الطُّوَلِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
وعن ابن عباس قال: قلت لعثمان: ما حملكم أن عمدتم إلى الأنفال وهي من المثاني، وإلى براءة وهي من المائين، فقرنتم بينهما ولم تكتبوا سطر بسم الله الرحمن الرحيم ، ووضعتموها في السبع الطول؟ ما حملكم على ذلك؟قال عثمان: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مما يأتي عليه الزمان وهو تنزل عليه السور ذوات العدد، وكان إذا نزل عليه الشيء دعا بعض من كان يكتب فيقول: "ضعوا هؤلاء الآيات في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا"، فإذا نزلت عليه الآية فيقول: "ضعوا هذه الآية في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا". وكانت الأنفال من أوائل ما نزلت بالمدينة، وكانت براءة من آخر القرآن نزولا، وكانت قصتها شبيهة بقصتها، فقبض رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ولم يبين لنا أنها منها، فمن أجل ذلك قرنت بينهما، ولم أكتب بينهما سطر بسم الله الرحمن الرحيم ،ووضعتها في السبع الطول. رواه أحمد والترمذي وأبو داود.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں میں نے حضرت عثمان سے پوچھا کہ تمہارے لیے اس کا کیا سبب ہوا کہ تم نے سورۂ انفال کو جو مثانی میں سے ہے سورۃ براءۃ سے ملادیا جو مائین میں سے ہے ۱؎اور بیچ میںبسم الله الرحمن الرحیمنہ لکھی ۲؎اور تم نے اسے سات بڑی سورتوں میں رکھ دیا اس کی وجہ کیا ہوئی ۳؎تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر زمانہ گزرتا رہتا تھا کہ آپ پر متعدد سورتیں نازل ہوتی رہتی تھیں۴؎اور جب بھی آپ پر کوئی آیت اترتی تو بعض کاتبین وحی کو بلاتے اور فرماتے کہ یہ آیتیں اس سورہ میں رکھو جن میں فلاں فلاں چیزوں کا ذکر ہے ۵؎پھر جب آپ پر کوئی آیت نازل ہوتی تو فرماتے کہ اس آیت کو اس سورت میں رکھو جس میں ایسا ایسا ذکر ہے ۶؎اور سورۂ انفال ان سورتوں میں سے ہے جو مدینہ پاک میں پہلے نازل ہوئیں اور سورہ برات نزول میں آخری قرآن ہے ۷؎اور اس کا قصہ سورۂ انفال کے قصے سے مشابہ تھا ۸؎حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات ہوگئی اور یہ صراحۃً بیان نہ فرمایا کہ یہ سورۂ انفال کا جز ء ہے ۹؎اس لیے میں نے انہیں ملا تو دیا مگربسم الله الرحمن الرحیمکی سطر نہ لکھی اور میں نے اسے سات لمبی سورتوں میں رکھا ۱۰؎(احمد، ترمذی،ابوداؤد)۱۱؎
شرح حدیث
۱∞؎قرآن کریم کی تقسیم یوں ہے کہ اول قرآن کا نام مثانی ہے اس کے بعدمئین،پھر تواں یا توابع پھر مفصل سورۂ حجرات سے آخر قرآن کا نام مفصل ہے مثانی سورت فاتحہ کا نام بھی ہے اور سارے قرآن کریم کا بھی،اور اس کی اگلی سات سورتوں کا بھی،حضرت ابن عباس نے حضرت عثمان سے دو سوال کئے ایک یہ کہ سورۃ انفال تمہارے جمع کے مطابق مثانی حصے کی سورۃ ہےاو ر سورۂ توبہمئینحصہ کی سورت آپ حضرات نے ان دونوں سورتوں کو ملا کیوں دیا،نیز سورۂ انفال چھوٹی سورۃ ہے کہ پچھتر آیتوں کی ہے،اور سورہ توبہ بہت بڑی کہ اس کی ایک سو انتیس آیتیں ہیں۔چنانچہ مثانی سورتیں بڑی ہیں اورمائینچھوٹی،مگر آپ نے چھوٹی سورت کو مثانی میں داخل کیا اور بڑی یعنی توبہ کو مئین میں،چاہیئے تھا اس کے برعکس ہونا۔
۲؎یہ دوسر ا سوال ہے یعنی تمام سورتوں کوبسم اللهسے شروع کیا جاتاہے مگر تم نے سورۂ توبہ کے اولبسم اللهنہ لکھی خلاصہ یہ ہے کہ سورۃ کا سورت سے فصل دو چیزوں سے ہوتا ہے ایک سورۃ کا نام آیتوں،رکوعوں کی تعداد کا ذکر اور دوسرےبسم اللهآپ نے ان دو سورتوں انفال و توبہ کے درمیان ایک فصل تو رکھا مگر دوسرا فصلبسم اللهوالا نہ کیا اس کی کیا وجہ ہےسبحان الله !دونوں سوال بہت ہی اہم ہیں۔
۳؎یعنی سورۃ انفال کو جس کی آیتیں سو سے کم بھی ہیں مثانی میں رکھا حالانکہ مثانی سورتوں کی آیتیں تومئینسے بھی زیادہ ہونی چاہئیں۔خیال رہے کہ مئین سورتوں کی آیتوں سو سے زیادہ ہیں اس لیے انہیںمئینکہتے ہیں اور مثانی کی آیتیں تومئینسے بھی زیادہ ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ سورۂ توبہ پہلے چاہیئے تھی کہ بڑی ہے اور سورۂ انفال بعد کہ یہ چھوٹی ہے۔
۴؎یعنی کبھی تو عرصہ تک حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم پر کوئی وحی نہ آتی تھی اور کبھی مسلسل سورتیں آتی رہتی تھیں پھر آیات کے نزول کا یہ حال تھا کہ کبھی کسی سورۃ کی کوئی آیت آگئی اور کبھی دوسری سورہ کی کوئی آیت سورتوں کے نزول کا بھی یہ ہی حال تھا کہ کبھی پچھلی سورۃ پہلے آگئی اور کبھی اگلی سورۃ پیچھے نازل ہو گئی،کیونکہ سورتوں آیتوں کا نزول حسب ضرورت ہوتا تھا یہ ترتیب نزول کے مطابق نہیں بلکہ لوح محفوظ کی ترتیب کے لحاظ سے ہے یہ کلام جواب کے علاوہ ہے۔
۵؎یعنی جب کوئی آیت نازل ہوتی تو فرمادیتے کہ یہ آیت فلاں سورۃ کی فلاں آیت کی بعد رکھو معلوم ہوا کہ ترتیب آیات توقیفی چیز ہے،جس میں عقل کو دخل نہیں،اسی لیے خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے حکم اپنے اہتمام سے ترتیب دلائی،کیو نکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی نظر لوح محفوظ پرتھی،دیکھتے تھے کہ وہاں کون سی آیت کس جگہ ہے،ادھر دیکھ کر ادھر ترتیب دیتے تھے۔
۶؎یہ دونوں جملے مکرر معلوم ہوتے ہیں مگر ان میں فرق یہ ہے کہ وہاںشیئفرمایا گیا جس سے چند آیتوں کا مجموعہ مراد ہے اور یہاںآیۃارشاد ہوا یعنی ایک آیت مطلب یہ ہوا کہ اگر چند آیتیں ایک دم آتیں تو ان میں بھی سرکار خود ہی ترتیب دیتے تھے،اور اور اگر صرف ایک آیت آتی تب بھی ترتیب دیتے۔ خیال رہے کہ آیتوں کی ترتیب توبالاتفاق توقیفی ہے جس میں عقل کو دخل نہیں مگر سورتوں کی ترتیب میں اختلاف ہے بعض نے کہا وہ بھی توقیفی ہے بعض کے ہاں نہیں۔(مرقات)
۷؎یعنی سورۃ انفال و براءت دونوں مدنی ہیں،اس لیے انہیں ایک ساتھ رکھا گیا،پھر سورۂ انفال پہلے ا تری،اس لیے اسے آگے رکھا گیا،اور سورہ براءت بعد آئی،اس لیے اسے پیچھے رکھا گیا یہ وجہ جمع و ترتیب کی ہوئی۔
۸؎یعنی سورۂ انفال و براءت کا مضمون یکساں ہے کہ سورۃ انفال میں اکثر دین کی سر بلندی کفر کی نگو نساری کا ذکر ہے اور سورہ براءت میں زیادہ تر منافقوں کی رسوائی ان کی پردہ دری و عتاب کا ذکر ہے جو دین کی بلندی کا نتیجہ ہے،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ایک ہی سورت ہیں۔
۹؎یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلمبسم اللهکے نزول سے معلوم فرماتے تھے کہ یہ آیت مستقل علیحدہ سورۃ ہیں یہ ہی ہم کو بتادیتے تھے مگر سورۂ براءۃ کے متعلق حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ خبر نہ دی کہ یہاںبسم اللهآگئی ہے یہ سورۃ انفال سے علیحدہ سورت ہے۔
۱۰؎خلاصہ جواب یہ ہوا کہ ان دونوں سورتوں کا مدنی ہونا دونوں کے مضامین کا بہت مناسب ہونا درمیان میںبسم اللهنہ آنا ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں سورتیں ایک ہی سورۃ ہیں اس لیے درمیان میںبسم اللهنہ لکھی گئی مگر دونوں کے نزول میں اتنا فاصلہ ہونا کہ سورہ انفال شروع ہجرت میں نازل ہوئی اور سورت توبہ آخر میں۔ اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ الگ الگ دو سورتیں ہیں اس لیے میں نے ان کی علیحدگی کی ایک علامت تو رکھ دی یعنی درمیان میں لمبا خط سورۃ کا نام اس کی آیتوں رکوعوں کا ذکر اور دوسری علامت نہ رکھی یعنیبسم الله،پتہ لگا کہ جمع قرآن میں بہت ہی احتیاط سے کام لیا گیا۔حضرت عبد اللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہبسم اللهرحمت کی آیت ہے اور سورہ توبہ کفار سے امان اٹھانے،عذاب آنے کی آیت ہے اسی لیے رحمت کی آیت اس کے اول میں نہ لکھی گئی۔مرقات ولمعات اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورتوں کی ترتیب محض توقیفی نہیں اس میں کچھ عقل کو بھی دخل ہے۔
۱۱؎اس سوال و جواب سےمعلوم ہوا کہ جمع صدیقی اور جمع عثمانی میں دوطرح فرق ہے ایک یہ کہ جمع صدیقی کتابی شکل میں نہ تھی اوراق کو مرتب کر کے دھاگے باندھ دیا گیا تھا اور جمع عثمانی میں قرآن کتابی شکل میں ہوا دوسرے یہ کہ جمع صدیقی میں تمام قرأتیں موجود تھیں مگر جمع عثمانی میں صرف ایک قرأۃ رکھی گئی کیونکہ مختلف قرأتوں کی اب ضرورت نہ رہی تھی لوگ اس قرأت کے عادی ہوچکے تھے اور اس جمع میں وہ ہی قرأت رکھی گئی جو جبریل امین لائے تھے باقی قرأتوں کی لوگوں کو اجازت دیدی گئی تھی،ضرورتًا کہ اپنی زبان میں قرآن پڑھ لیں۔ان قبیلوں کی زبانوں میں کچھ الفاظ میں معمولی فرق تھا جیسےمَلِكِ مَالِكِ ننشرُاورننشزُراء مہملہ و زاء معجمہ ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2222