Main Icon

باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2222

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قُلتُ لعُثْمَان: مَا حَمَلَكُمْ أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَى الأَنْفَالِ وَهِيَ مِنَ الْمَثَانِيْ، وَإِلَى بَرَاءَةٍ وَهِيَ مِنَ الْمِائينِ، فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا وَلم تكْتبُوْا سَطْرَ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ ، وَوَضَعْتُمُوْهَا فِي السَّبعِ الطُّوَلِ؟ مَا حَمَلَكُمْ عَلٰى ذَلِك؟قَالَ عُثْمَانُ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مِمَّا يَأْتِيْ عَلَيْهِ الزَّمَانُ وَهُوَ تَنزلُ عَلَيْهِ السُّوَرُ ذَوَاتُ الْعَدَدِ، وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الشَّيْءُ دَعَا بَعْضَ مَنْ كَانَ يَكْتُبُ فَيَقُوْلُ: "ضَعُوْا هَؤُلَاءِ الآيَاتِ فِي السُّوْرَةِ الَّتِيْ يُذْكَرُ فِيْهَا كَذَا وَكَذَا"، فَإِذَا نزَلَتْ عَلَيْهِ الآيَةُ فَيَقُوْلُ: "ضَعُوْا هٰذِهِ الآيَةَ فِي السُّوْرَةِ الَّتِيْ يُذْكَرُ فِيْهَا كَذَا وَكَذَا". وَكَانَتِ الأَنْفَالُ مِنْ أَوَائِلِ مَا نَزَلَتْ بِالْمَدِيْنَةِ، وَكَانَتْ بَرَاءَةُ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ نُزُوْلًا، وَكَانَت قِصَّتُهَا شَبيهَةً بِقِصَّتِهَا، فَقُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّهَا مِنْهَا، فَمِنْ أَجْلِ ذٰلِكَ قَرَنْتُ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ أَكْتُبْ بَينَهُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ ،وَوَضَعْتُهَا فِي السَّبْعِ الطُّوَلِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن ابن عباس قال: قلت لعثمان: ما حملكم أن عمدتم إلى الأنفال وهي من المثاني، وإلى براءة وهي من المائين، فقرنتم بينهما ولم تكتبوا سطر بسم الله الرحمن الرحيم ، ووضعتموها في السبع الطول؟ ما حملكم على ذلك؟قال عثمان: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مما يأتي عليه الزمان وهو تنزل عليه السور ذوات العدد، وكان إذا نزل عليه الشيء دعا بعض من كان يكتب فيقول: "ضعوا هؤلاء الآيات في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا"، فإذا نزلت عليه الآية فيقول: "ضعوا هذه الآية في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا". وكانت الأنفال من أوائل ما نزلت بالمدينة، وكانت براءة من آخر القرآن نزولا، وكانت قصتها شبيهة بقصتها، فقبض رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ولم يبين لنا أنها منها، فمن أجل ذلك قرنت بينهما، ولم أكتب بينهما سطر بسم الله الرحمن الرحيم ،ووضعتها في السبع الطول. رواه أحمد والترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں میں نے حضرت عثمان سے پوچھا کہ تمہارے لیے اس کا کیا سبب ہوا کہ تم نے سورۂ انفال کو جو مثانی میں سے ہے سورۃ براءۃ سے ملادیا جو مائین میں سے ہے ۱؎اور بیچ میںبسم الله الرحمن الرحیمنہ لکھی ۲؎اور تم نے اسے سات بڑی سورتوں میں رکھ دیا اس کی وجہ کیا ہوئی ۳؎تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر زمانہ گزرتا رہتا تھا کہ آپ پر متعدد سورتیں نازل ہوتی رہتی تھیں۴؎اور جب بھی آپ پر کوئی آیت اترتی تو بعض کاتبین وحی کو بلاتے اور فرماتے کہ یہ آیتیں اس سورہ میں رکھو جن میں فلاں فلاں چیزوں کا ذکر ہے ۵؎پھر جب آپ پر کوئی آیت نازل ہوتی تو فرماتے کہ اس آیت کو اس سورت میں رکھو جس میں ایسا ایسا ذکر ہے ۶؎اور سورۂ انفال ان سورتوں میں سے ہے جو مدینہ پاک میں پہلے نازل ہوئیں اور سورہ برات نزول میں آخری قرآن ہے ۷؎اور اس کا قصہ سورۂ انفال کے قصے سے مشابہ تھا ۸؎حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات ہوگئی اور یہ صراحۃً بیان نہ فرمایا کہ یہ سورۂ انفال کا جز ء ہے ۹؎اس لیے میں نے انہیں ملا تو دیا مگربسم الله الرحمن الرحیمکی سطر نہ لکھی اور میں نے اسے سات لمبی سورتوں میں رکھا ۱۰؎(احمد، ترمذی،ابوداؤد)۱۱؎

شرح حدیث

۱∞؎قرآن کریم کی تقسیم یوں ہے کہ اول قرآن کا نام مثانی ہے اس کے بعدمئین،پھر تواں یا توابع پھر مفصل سورۂ حجرات سے آخر قرآن کا نام مفصل ہے مثانی سورت فاتحہ کا نام بھی ہے اور سارے قرآن کریم کا بھی،اور اس کی اگلی سات سورتوں کا بھی،حضرت ابن عباس نے حضرت عثمان سے دو سوال کئے ایک یہ کہ سورۃ انفال تمہارے جمع کے مطابق مثانی حصے کی سورۃ ہےاو ر سورۂ توبہمئینحصہ کی سورت آپ حضرات نے ان دونوں سورتوں کو ملا کیوں دیا،نیز سورۂ انفال چھوٹی سورۃ ہے کہ پچھتر آیتوں کی ہے،اور سورہ توبہ بہت بڑی کہ اس کی ایک سو انتیس آیتیں ہیں۔چنانچہ مثانی سورتیں بڑی ہیں اورمائینچھوٹی،مگر آپ نے چھوٹی سورت کو مثانی میں داخل کیا اور بڑی یعنی توبہ کو مئین میں،چاہیئے تھا اس کے برعکس ہونا۔
۲
؎یہ دوسر ا سوال ہے یعنی تمام سورتوں کوبسم اللهسے شروع کیا جاتاہے مگر تم نے سورۂ توبہ کے اولبسم اللهنہ لکھی خلاصہ یہ ہے کہ سورۃ کا سورت سے فصل دو چیزوں سے ہوتا ہے ایک سورۃ کا نام آیتوں،رکوعوں کی تعداد کا ذکر اور دوسرےبسم اللهآپ نے ان دو سورتوں انفال و توبہ کے درمیان ایک فصل تو رکھا مگر دوسرا فصلبسم اللهوالا نہ کیا اس کی کیا وجہ ہےسبحان الله !دونوں سوال بہت ہی اہم ہیں۔
۳
؎یعنی سورۃ انفال کو جس کی آیتیں سو سے کم بھی ہیں مثانی میں رکھا حالانکہ مثانی سورتوں کی آیتیں تومئینسے بھی زیادہ ہونی چاہئیں۔خیال رہے کہ مئین سورتوں کی آیتوں سو سے زیادہ ہیں اس لیے انہیںمئینکہتے ہیں اور مثانی کی آیتیں تومئینسے بھی زیادہ ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ سورۂ توبہ پہلے چاہیئے تھی کہ بڑی ہے اور سورۂ انفال بعد کہ یہ چھوٹی ہے۔
۴
؎یعنی کبھی تو عرصہ تک حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم پر کوئی وحی نہ آتی تھی اور کبھی مسلسل سورتیں آتی رہتی تھیں پھر آیات کے نزول کا یہ حال تھا کہ کبھی کسی سورۃ کی کوئی آیت آگئی اور کبھی دوسری سورہ کی کوئی آیت سورتوں کے نزول کا بھی یہ ہی حال تھا کہ کبھی پچھلی سورۃ پہلے آگئی اور کبھی اگلی سورۃ پیچھے نازل ہو گئی،کیونکہ سورتوں آیتوں کا نزول حسب ضرورت ہوتا تھا یہ ترتیب نزول کے مطابق نہیں بلکہ لوح محفوظ کی ترتیب کے لحاظ سے ہے یہ کلام جواب کے علاوہ ہے۔
۵
؎یعنی جب کوئی آیت نازل ہوتی تو فرمادیتے کہ یہ آیت فلاں سورۃ کی فلاں آیت کی بعد رکھو معلوم ہوا کہ ترتیب آیات توقیفی چیز ہے،جس میں عقل کو دخل نہیں،اسی لیے خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے حکم اپنے اہتمام سے ترتیب دلائی،کیو نکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی نظر لوح محفوظ پرتھی،دیکھتے تھے کہ وہاں کون سی آیت کس جگہ ہے،ادھر دیکھ کر ادھر ترتیب دیتے تھے۔
۶
؎یہ دونوں جملے مکرر معلوم ہوتے ہیں مگر ان میں فرق یہ ہے کہ وہاںشیئفرمایا گیا جس سے چند آیتوں کا مجموعہ مراد ہے اور یہاںآیۃارشاد ہوا یعنی ایک آیت مطلب یہ ہوا کہ اگر چند آیتیں ایک دم آتیں تو ان میں بھی سرکار خود ہی ترتیب دیتے تھے،اور اور اگر صرف ایک آیت آتی تب بھی ترتیب دیتے۔ خیال رہے کہ آیتوں کی ترتیب توبالاتفاق توقیفی ہے جس میں عقل کو دخل نہیں مگر سورتوں کی ترتیب میں اختلاف ہے بعض نے کہا وہ بھی توقیفی ہے بعض کے ہاں نہیں۔(مرقات)
۷
؎یعنی سورۃ انفال و براءت دونوں مدنی ہیں،اس لیے انہیں ایک ساتھ رکھا گیا،پھر سورۂ انفال پہلے ا تری،اس لیے اسے آگے رکھا گیا،اور سورہ براءت بعد آئی،اس لیے اسے پیچھے رکھا گیا یہ وجہ جمع و ترتیب کی ہوئی۔
۸
؎یعنی سورۂ انفال و براءت کا مضمون یکساں ہے کہ سورۃ انفال میں اکثر دین کی سر بلندی کفر کی نگو نساری کا ذکر ہے اور سورہ براءت میں زیادہ تر منافقوں کی رسوائی ان کی پردہ دری و عتاب کا ذکر ہے جو دین کی بلندی کا نتیجہ ہے،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ایک ہی سورت ہیں۔
۹
؎یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلمبسم اللهکے نزول سے معلوم فرماتے تھے کہ یہ آیت مستقل علیحدہ سورۃ ہیں یہ ہی ہم کو بتادیتے تھے مگر سورۂ براءۃ کے متعلق حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ خبر نہ دی کہ یہاںبسم اللهآگئی ہے یہ سورۃ انفال سے علیحدہ سورت ہے۔
۱۰
؎خلاصہ جواب یہ ہوا کہ ان دونوں سورتوں کا مدنی ہونا دونوں کے مضامین کا بہت مناسب ہونا درمیان میںبسم اللهنہ آنا ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں سورتیں ایک ہی سورۃ ہیں اس لیے درمیان میںبسم اللهنہ لکھی گئی مگر دونوں کے نزول میں اتنا فاصلہ ہونا کہ سورہ انفال شروع ہجرت میں نازل ہوئی اور سورت توبہ آخر میں۔ اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ الگ الگ دو سورتیں ہیں اس لیے میں نے ان کی علیحدگی کی ایک علامت تو رکھ دی یعنی درمیان میں لمبا خط سورۃ کا نام اس کی آیتوں رکوعوں کا ذکر اور دوسری علامت نہ رکھی یعنیبسم الله،پتہ لگا کہ جمع قرآن میں بہت ہی احتیاط سے کام لیا گیا۔حضرت عبد اللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہبسم اللهرحمت کی آیت ہے اور سورہ توبہ کفار سے امان اٹھانے،عذاب آنے کی آیت ہے اسی لیے رحمت کی آیت اس کے اول میں نہ لکھی گئی۔مرقات ولمعات اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورتوں کی ترتیب محض توقیفی نہیں اس میں کچھ عقل کو بھی دخل ہے۔
۱۱
؎اس سوال و جواب سےمعلوم ہوا کہ جمع صدیقی اور جمع عثمانی میں دوطرح فرق ہے ایک یہ کہ جمع صدیقی کتابی شکل میں نہ تھی اوراق کو مرتب کر کے دھاگے باندھ دیا گیا تھا اور جمع عثمانی میں قرآن کتابی شکل میں ہوا دوسرے یہ کہ جمع صدیقی میں تمام قرأتیں موجود تھیں مگر جمع عثمانی میں صرف ایک قرأۃ رکھی گئی کیونکہ مختلف قرأتوں کی اب ضرورت نہ رہی تھی لوگ اس قرأت کے عادی ہوچکے تھے اور اس جمع میں وہ ہی قرأت رکھی گئی جو جبریل امین لائے تھے باقی قرأتوں کی لوگوں کو اجازت دیدی گئی تھی،ضرورتًا کہ اپنی زبان میں قرآن پڑھ لیں۔ان قبیلوں کی زبانوں میں کچھ الفاظ میں معمولی فرق تھا جیسےمَلِكِ مَالِكِ ننشرُاورننشزُراء مہملہ و زاء معجمہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2222