- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- قرآن کے فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 2221
باب:قرأت قرآن کے متعلق متفرق مضامین کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2221
قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ قَدِمَ عَلٰى عُثْمَانَ، وَكَانَ يُغَازِيْ أَهْلَ الشَّامِ فِيْ فَتْحِ أَرْمِيْنِيَّةَ وَأَذَرْبِيْجَانَ مَعَ أَهْلِ الْعِرَاقِ،فَأَفْزَعَ حُذَيْفَةَ اخْتِلَافُهُمْ فِي الْقِرَاءَةِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ لِعُثْمَانَ: يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! أَدْرِكْ هٰذِهِ الأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوْا فِي الْكِتَابِ اخْتِلَافَ الْيَهُوْدِ وَالنَّصَارَى، فَأَرْسَلَ عُثْمَانُ إِلٰى حَفْصَةَ: أَنْ أَرْسِلِيْ إِلَيْنَا بِالصُّحُفِ نَنْسَخُهَا فِي الْمَصَاحِفِ ثُمَّ نرُدُّهَا إِلَيْكِ، فَأَرْسَلَتْ بِهَا حَفْصَةُ إِلٰى عُثْمَانَ، فَأَمَرَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَعَبْدَ اللّٰهِ ابْنَ الزّبَيْرِ وَسَعِيْدَ بنَ الْعَاصِ وَعَبدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، فَنَسَخُوْهَا فِي الْمَصَاحِفِ، وَقَالَ عُثْمَانُ لِلرَّهْطِ الْقُرَشِيِّيْنَ الثَّلَاثِ: إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِيْ شَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَاكْتُبُوْهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ، فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ، فَفَعَلُوْا، حَتّٰى إِذَا نَسَخُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ رَدَّ عُثْمَانُ الصُّحُفَ إِلٰى حَفْصَةَ، وَأَرْسَلَ إِلٰى كُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ مِمَّا نَسَخُوْا،وَأَمَرَ بِمَا سِوَاهُ مِنَ الْقُرْآنِ فِيْ كُلِّ صَحِيْفَةٍ أَوْ مُصْحَفٍ أَنْ يُحْرَقَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِيْ خَارِجَةُ بنُ زَيدِ بنِ ثَابتٍ أَنَّهٗ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ: فَقَدْتُ آيَةً مِنَ الأَحْزَابِ حِيْنَ نَسَخْنَا الْمُصْحَفَ قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقْرَأُ بِهَا، فَالْتَمَسْنَاهَا فَوَجَدْناهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ فَأَلْحَقْنَاهَا فِيْ سُوْرَتِهَا فِي الْمُصْحَفِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
وعن أنس بن مالك: أن حذيفة بن اليمان قدم على عثمان، وكان يغازي أهل الشام في فتح أرمينية وأذربيجان مع أهل العراق،فأفزع حذيفة اختلافهم في القراءة، فقال حذيفة لعثمان: يا أمير المؤمنين! أدرك هذه الأمة قبل أن يختلفوا في الكتاب اختلاف اليهود والنصارى، فأرسل عثمان إلى حفصة: أن أرسلي إلينا بالصحف ننسخها في المصاحف ثم نردها إليك، فأرسلت بها حفصة إلى عثمان، فأمر زيد بن ثابت وعبد الله ابن الزبير وسعيد بن العاص وعبد الرحمن بن الحارث بن هشام، فنسخوها في المصاحف، وقال عثمان للرهط القرشيين الثلاث: إذا اختلفتم في شيء من القرآن فاكتبوه بلسان قريش، فإنما نزل بلسانهم، ففعلوا، حتى إذا نسخوا الصحف في المصاحف رد عثمان الصحف إلى حفصة، وأرسل إلى كل أفق بمصحف مما نسخوا،وأمر بما سواه من القرآن في كل صحيفة أو مصحف أن يحرق، قال ابن شهاب: فأخبرني خارجة بن زيد بن ثابت أنه سمع زيد بن ثابت قال: فقدت آية من الأحزاب حين نسخنا المصحف قد كنت أسمع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقرأ بها، فالتمسناها فوجدناها مع خزيمة بن ثابت الأنصاري من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فألحقناها في سورتها في المصحف. رواه البخاري.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت انس ابن مالک سے کہ حضرت حذیفہ ابن یمان جناب عثمان کی خدمت میں آئے جب کہ آپ فتح ارمینیہ میں شام والوں اور فتح آذربیجان میں عراق والوں سے جہاد کر رہے تھے حضرت حذیفہ کو لوگوں کی قرأت قرآن کے اختلاف نے گھبرا دیا تھا ۱؎چنانچہ حضرت حذیفہ نے حضرت عثمان سے عرض کیا اے امیرالمؤمنین اس امت کی اس سے پہلے مدد کیجئے جب کہ وہ یہود و نصاریٰ کی طرح کتاب اللہ میں اختلاف کر بیٹھیں ۲؎تب جناب عثمان غنی نے بی بی حفصہ کو پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس وہ اوراق بھیج دو تاکہ ہم انہیں صحیفوں میں نقل کرلیں۳؎پھر تمہیں واپس کردیں گے ۴؎حضرت حفصہ نے وہ صحیفے جناب عثمان کو بھیج دیئے آپ نے حضرت زید ابن ثابت عبد اللہ ابن زبیر سعید ابن عاص عبد اللہ ابن حارث ابن ہشام کو حکم دیا ۵؎انہوں نے اسے مختلف صحیفوں میں نقل کیا ۶؎اور حضرت عثمان نے قریشی جماعت سے فرمایا جو تین صاحب تھے ۷؎کہ جب تم اور زید ابن ثابت قرآن کی کسی آیت میں اختلاف کرو ۸؎تو اسے زبان قریش ہی میں لکھنا کیونکہ قرآن زبان قریش میں اترا ہے ۹؎چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا حتی کہ جب یہ صحیفے دیگر مصاحف میں نقل کرلیے تو حضرت عثمان نے یہ اوراق بی بی حفصہ کو واپس کردیئے اور ان نقل شدہ میں سے ہر طرف ایک نسخہ بھیج دیا ۱۰؎اور ان کے سواء بقیہ اور نسخوں کو جلا دینے کا حکم دے دیا ۱۱؎ابن شہاب فرماتے ہیں کہ مجھے خارجہ ابن زید ابن ثابت نے خبر دی۱۲؎کہ انہوں نے حضرت زید ابن ثابت کو فرماتے سنا کہ میں نے سورۂ احزاب کی ایک آیت قرآن نقل کرتے وقت گم پائی جو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو پڑھتے ہوئے سنا کرتا تھا ۱۳؎ہم نے اسے بہت تلاش کیا تو اسے خزیمہ ابن ثابت انصاری کے پاس پایا۱۴؎یعنی یہ آیت کہ مؤمنوں میں بعض وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالٰی سے کئے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا چنانچہ ہم نے اسے قرآن شریف میں اس سورت سے ملادیا۔(بخاری)۱۵؎
شرح حدیث
۱؎بلاد الغرب میں آذر بیجان مشہور شہر ہے اور اسی شہر کے نام سے علاقہ کو بھی آذر بیجان کہا جاتا ہے اس علاقہ میں آرمینیہ مشہور شہر ہے عہد عثمانی میں یہ علاقہ فتح ہوا اس جہاد میں شام و عراق کے غازی جمع تھے،
یہ حضرات قرآن کریم مختلف طرح پڑھتے تھے اور ہر ایک کہتا تھا کہ میرا قرآن صحیح دوسرے کا غلط ہے یہ اختلاف یا تو مختلف قرأتوں کی بنا پر تھا جو زمانہ نبوی میں مروج ہوچکی تھیں یا اس لیے کہ بعض صحابہ کے پاس قرآنی آیتوں کے ساتھ کچھ تفسیری نوٹ تھے جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے تھے وہ اسے قرآن سمجھے بیٹھے تھے اور قرآن کی طرح ان کی بھی تلاوت کرلیتے تھے۔
۲؎یعنی اے امیر المؤمنین ابھی تو عہد صحابہ ہے اگر اس وقت سے قرآن میں اختلاف پیدا ہوگیا تو آگے چل کر سینکڑوں قسم کے قرآن جمع ہوجائیں گے جس کی وجہ سے مسلمانوں میں تفرقہ پیدا ہوگا ہر فرقہ کہے گا کہ میرا قرآن درست ہے دوسرے کا غلط جیسا کہ آج تو ریت و انجیل کے نسخوں کا حال ہے۔
۳؎حضرت عثمان غنی نے پہلے پچاس ہزار مسلمانوں کو جمع فرما کر ان سے مشورہ کیا سب نے بالاتفاق جمع قرآن کی رائے دیدی پھر آپ نے حضرت ام المؤمنین حفصہ بنت عمر فاروق سے جمع شدہ تھیلا منگایا یہاں مصحف سے مراد وہ اوراق ہیں جو حضرت صدیق اکبر جمع فرما کر دھاگے سے باندھ کر یکجا کر گئے تھے اور مصاحف سے مراد قرآن کریم کے مکمل نسخے ہیں جو کتابی شکل میں ہوں لہذا حدیث واضح ہے۔
۴؎کیونکہ حضرت حفصہ کے پاس قرآن بصیغہ امانت تھا نہ کہ یہ اوراق،قرآن مجیدنقل کرکے اوراق انہیں بھیج دیئے گئے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضرت حفصہ کو وہ اوراق واپس کیوں کئے گئے۔
۵؎یعنی قرآن کے جمع کے لیے یہ چار حضرات منتخب ہوئے جن میں سے حضرت زید ابن ثابت تو انصاری تھے باقی تین حضرات مہاجر قرشی تھے۔
۶؎چار یا سات نسخے قرآن کریم کے جمع کئے جن میں سے ایک نسخہ یہاں مدینہ پاک میں رکھا گیا باقی تمام اطراف میں بھیج دیئے گئے۔
۷؎جن کے نام ابھی ابھی ذکر کئے گئے عبد اللہ ابن زبیر، سعید ا بن عاص،عبد اللہ ابن حارث۔
۸؎اس طرح کہ تمہاری قرأۃ کچھ اور طرح ہو،اور حضرت زید ابن ثابت کی قرأۃ دوسری طرح اس اختلاف کی وجہ وہ ہے جو پہلے گزر چکی کہ زمانہ نبوی میں تلاوت قرآن مختلف قرأتوں سے ہوتی تھی ۔
۹؎یعنی نزول قرآن تو قریشی زبان میں ہوا پھر آسانی کے لیے دیگر لوگوں کو اپنی لغتوں میں تلاوت کی اجازت دی گئی تھی اس وقت کے لحاظ سے جیسے نزول تو ہوا"مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیۡنِ"مگر اجازت دی گئی"مَلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ"پڑھنے کی بھی یا نزول تو ہواننشزھازنقطے والی سے مگر اجازت دی گئیننشرھاپڑھنے کی بھی راء مہملہ سے۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے صرف جمع قرآن کا اہتمام فرمایا لغت قریش پر ہو یا دوسری لغت پر۔مگر حضرت عثمان نے جمع بھی کیا اور دوسری قرأتوں سے چھانٹ بھی دیا جمع صدیقی اور جمع عثمانی میں ایک فرق یہ بھی ہے،حضرت حفصہ سے اوراق قرآن منگانے کا منشاء یہ تھا کہ کوئی آیت رہ نہ جائے نہ یہ کہ بعینہ نقل کردی جائے لہذا اس واقعہ پر اعتراض نہیں۔
۱۰؎چنانچہ قرآن کریم کے سات نسخے نقل کئے گئے جن میں سے ایک مدینہ پاک میں رکھا گیا اور ایک کوفہ،ایک بصرہ ایک شام،ایک بحرین اور ایک مکہ معظمہ کو بھیجے۔
۱۱؎یحرقح مہملہ سے ہے،بمعنی جلادینا،بعض نسخوں میںیخرقخ منقوطہ سے ہے بمعنی پھاڑ ڈالنا یعنی اس کے علاوہ قرآن کے دوسرے اوراق کے جلا ڈالنے کا حکم دیا یا پھاڑ دینے کا مگریحرقحاء مہملہ سے زیادہ مشہور ہے۔ خیال رہے کہ بعض صحابہ کے پاس کچھ اوراق تھے جن میں وہ آیات بھی تھیں جو منسوخ التلاوت ہوچکی تھیں۔مگر انہیں نسخ کی خبر نہ ہوئی تھی اور بعض تفسیری نوٹ بھی تھے جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے آیت کے ساتھ بطور تفسیر ارشاد فرمائے تھے یہ حضرات ان سب کو قرآن ہی سمجھے ہوئے تھے جیسے حضرت ابی ابن کعب یا ابن مسعود کے مصاحف،اگر وہ اوراق باقی رہ جاتے تو مسلمانوں میں بڑا فتنہ پھیلتا،ہر فرقہ کہتا کہ یہ قرآن درست دوسرا غلط اس لیے باقی تمام نسخے جلوادیئے گئے بعض بے وقوف کہتے ہیں کہ فضائل علی و اہل بیت کی آیات جلادی گئیں اور اب یہ موجودہ قرآن ناقص ہے مگر یہ محض غلط ہے ورنہ حضرت علی مرتضیٰ اس وقت خاموش نہ بیٹھتے قرآن کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کردیتے کم از کم اپنے دور خلافت میں اس اصلی قرآن کو جاری کرتے اور اس قرآن سے نماز وغیرہ کبھی ادا نہ کرتے،یہ بھی خیال رہے کہ اس وقت ان نسخوں کا جلا ڈالنا ہی بہتر بلکہ ضروری تھا کہ اگر وہ دفن ہوتےتو بعد میں پھر نکال لیے جاتےاور ان کی اشاعت سے فساد پھیلتا اور اتنے اوراق دھونا دشوار بھی تھا اور خطرناک بھی ورنہ بے کار قرآن کے اوراق کا دفن کردینا بہتر ہے یا اگر قلمی ورق ہو تو اسے دھو کر پی لینا افضل ہے کہ یہ پانی ہر مرض کی شفا ہے۔ مرقاۃ
۱۲؎ابن شہاب امام زہری کی کنیت ہے اور خارجہ زید ابن ثابت کے بیٹے ہیں،مدینہ منورہ کے بڑے علماء میں سے تھے تابعی ہیں انہوں نے اپنے والد زید ابن ثابت سے یہ سنا۔
۱۳؎یعنی جب ہم نے صحیفہ صدیقی سے صحف عثمانیہ میں قرآن شریف نقل کیا تو اس صحیفہ میں یہ آیت نہ ملی غالب یہ ہے کہ وہ پرچہ اس عرصہ میں گم ہوگیا ہوگا یا گل گیا ہوگا ورنہ حضرت صدیق اکبر کے زمانہ میں ساری آیتیں مع ساری قرأتوں کے جمع ہوچکی تھیں ان بزرگوں کو یہ آیت بخوبی یاد تھا مگر کوشش یہ کی گئی کہ کہیں سے یہ آیت لکھی ہوئی بھی مل جائے اور ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ عہد صدیقی میں جمع قرآن کے وقت کا ہو۔
۱۴؎یعنی لکھی ہوئی صرف حضرت خزیمہ انصاری کے پاس تھی باقی دوسرے لوگوں کو یاد ضرور تھی حضرت خزیمہ کی کنیت ابو عمارہ ہے،اوسی ہیں،بدری ہیں،بدراور اس کے بعد کے تمام غزوات میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہے، جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ تھے اسی جنگ میں شہید ہوئے رضی اللہ عنہ۔
۱۵؎اس طرح کہ یہ آیت سورۂ احزاب میں اپنی جگہ پر رکھ دی گئی،مرقات نے فرمایا کہ غالب یہ ہے کہ یہ واقعہ پہلی جمع کے وقت ہوا یعنی زمانہ صدیقی اس وقت سورہ توبہ کی آیت "لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ"کا بھی یہی معاملہ ہوا تھا ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ زمانہ صدیقی میں تمام قرآن جمع ہوجائے اور پھر یہ آیت اس میں نہ ہو،یہ جمع ۲۵ھ میں ہوا۔مرقات نے فرمایا کہ عہد صدیقی کا جمع کیا ہوا قرآن مروان ابن حکم کے زمانہ میں جلادیا گیا حضرت حفصہ کی وفات کے بعد۔اشعۃ اللمعات میں شیخ نے فرمایا کہ حضرت علی نے بھی نزول کے مطابق قرآنی آیات جمع فرمائی تھیں مگر فتنہ کے خوف سے اس قرآن کی اشاعت نہ کی بلکہ اسے تلف کردیا تاکہ مسلمانوں میں دو قرآن نہ ہوجائیں کہ یہ سخت فتنہ کا باعث ہوگا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2221